امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر اترے ہزاروں افراد

’نو کنگز‘ گروپ کا منصوبہ پورے امریکہ میں 3 ہزار سے زیادہ پروگرام منعقد کرنے کا ہے۔ ’نو کنگز: ووٹ ارلی‘ کے نام سے منعقد کیے گئے ان پروگراموں کو غیر جانبدار قرار دیا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف سڑکوں پر اترے ہزاروں افراد، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکہ کے کئی شہروں میں اتوار(18 اکتوبر) کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لوگوں نے مظاہرے کیے۔ بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے اور نعرے بازی کی۔ جلد ووٹنگ کی ترغیب دینے کے لیے لوئس ول میں ’نو کنگز‘ ریلیاں دوبارہ منعقد کی گئیں۔ ایران کی ’مہر‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو لاس اینجلس، ڈیلاس اور امریکہ کے کئی دیگر بڑے شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر اترے اور مظاہروں میں شامل ہوئے۔ یہ مظاہرے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کے خلاف ملک بھر میں منعقد کیے گئے۔

ہفتہ (17 اکتوبر) کی دوپہر سینٹ میتھیوز کے فرینکفورٹ ایونیو پر منعقدہ ’نو کنگز‘ مظاہرے میں لوگوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرے کے دوران کینٹکیانا ریزنگ گرینیز اور گرمپی گرامپیز گروپوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف گانے گا کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ ’مہر نیوز‘ کے مطابق اسی دوران ’ٹرمپ 2028‘ کا جھنڈا لیے ڈونالڈ ٹرمپ کا ایک حامی اکیلے ہی مظاہرین کے ہجوم کے درمیان سے گزرا۔ اس وقت ٹرمپ مخالف مظاہرین فرینکفورٹ ایونیو کے کنارے کھڑے ہو کر احتجاج کر رہے تھے۔


ہفتہ کی دوپہر سینٹ میتھیوز کے فرینکفورٹ ایونیو پر لوگوں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج ’نو کنگز‘ مہم کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔ ’نو کنگز‘ گروپ نے ہفتہ کو امریکہ کے شہروں اور آبادیوں میں ریلیاں منعقد کیں۔ ان کا مقصد لوگوں کو وسط مدتی انتخابات میں جلد ووٹنگ کرنے کی ترغیب دینا تھا۔ ’نو کنگز‘ گروپ کا منصوبہ پورے امریکہ میں 3 ہزار سے زیادہ پروگرام منعقد کرنے کا ہے۔ ’نو کنگز: ووٹ ارلی‘ کے نام سے منعقد کیے گئے ان پروگراموں کو ’غیر جانبدار‘ قرار دیا گیا۔ حالانکہ یہ پروگرام ٹرمپ کی صدارت سے ناراض لوگوں کی جانب سے گزشتہ تقریباً 2 سال سے کیے جا رہے ’نو کنگز‘ مارچ اور مظاہروں کا ہی ایک حصہ ہیں۔