’نقصان پہنچانے والوں سے ہرجانہ وصول کیا جائے گا‘، فرانس میں پرتشدد مظاہروں پر صدر امینوئل میکروں کا سخت ردعمل

صدر میکروں نے کہا کہ جائز مطالبات کے لیے پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے والے عام شہریوں کو ہمیں ان لوگوں کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے، جنہوں نے توڑ پھوڑ کی، لوٹ مار کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

 ایمانوئل میکرون، تصویر یو این آئی
i

فرانس کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد اور جھڑپوں کے سلسلے میں صدر امینوئل میکروں نے کہا کہ جن لوگوں نے ملک کے نظام کو کمزور کرنے یا اسے گرانے کی کوشش کی، انہیں جواب دینا ہوگا۔ احتجاجی مظاہروں اور تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے صدر میکروں نے کہا کہ جائز مطالبات کے لیے پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے والے عام شہریوں کو ہمیں ان لوگوں کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے، جنہوں نے توڑ پھوڑ کی، لوٹ مار کی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

خبر رساں ایجنسی ’شنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں میکروں نے کہا کہ جن لوگوں نے نقصان پہنچایا ہے، انہیں اس کی قیمت چکانی ہوگی۔ جن لوگوں نے لوٹ مار کی ہے، انہیں اس کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد سے متاثرہ پولیس اہلکاروں، مقامی عوامی نمائندوں اور دکانداروں کے ساتھ حکومت کھڑی ہے۔ میکروں نے بتایا کہ وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو پیر کے روز بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کریں گے، تاکہ متاثرہ لوگوں تک جلد از جلد امداد پہنچائی جا سکے۔


’شنہوا‘ کے مطابق صدر میکروں نے حکومت سے کہا کہ وہ ہفتے کے روز پیش آنے والے واقعات سے سبق سیکھے اور خاص طور پر خفیہ معلومات جمع کرنے اور پیشگی تیاری کے نظام کا جائزہ لے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ میکروں نے کہا کہ وہ حالیہ ہفتوں میں اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء کی جانب سے ظاہر کی گئی تشویش کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں حکومت طلباء، اساتذہ، ٹریڈ یونینوں، دیگر تنظیموں اور سرکاری افسران کے ساتھ بات چیت کرے گی، تاکہ نوجوانوں کے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔

’شنہوا‘ کے مطابق میکروں نے تسلیم کیا کہ مظاہروں کے پیچھے مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے لوگوں کی تشویش بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کی قوت خرید بڑھانے اور عام شہریوں پر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ہفتے کے روز پورے فرانس میں تقریباً 5.5  لاکھ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان مظاہروں میں کسان، ماحولیاتی کارکن، ٹریڈ یونین کے ارکان اور طلبہ شامل تھے۔ مظاہرین نے ایندھن کی قیمتوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعلیمی نظام اور عوامی خدمات سے متعلق مسائل اٹھائے۔


حالانکہ کئی مقامات پر مظاہرے پرتشدد ہو گئے۔ فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق ان واقعات کے دوران 2397  افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تشدد میں 997 پولیس اہلکار اور سیکورٹی فورسز کے ارکان زخمی ہوئے، جن میں سے 7 کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ ’شنہوا‘ کے مطابق ستمبر سے فرانس میں طلباء کے کئی بڑے مظاہرے ہو چکے ہیں۔ طلباء بہتر تعلیمی سہولیات اور تعلیمی معیار میں بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب فرانس میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں، تعلیم اور عوامی خدمات کے حوالے سے لوگوں کی ناراضگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔