فرانس میں تشدد کے درمیان اب تک تقریباً 2400 افراد گرفتار، 1000 سے زائد پولیس اہلکار زخمی
فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے ملک کی عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی اور تشدد پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

فرانس میں مہنگائی اور عوامی خدمات کی بدتر صورت حال کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پرتشدد ہو گئے ہیں۔ مسلسل دوسری رات ملک کے کئی شہروں میں آتش زنی، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔ مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ حالات کے پیش نظر صدر امینوئل میکروں نے اتوار کو ملک کی عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے تشدد پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں ان مظاہروں کے دوران تقریباً 2,400 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے یہ بھی جانکاری دی ہے کہ احتجاج کے دوران تقریباً 1,000 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ یہ مظاہرہ ہفتہ کے روز شروع ہوا جب ملک بھر کے کئی شہروں میں 5 لاکھ سے زیادہ لوگ سڑکوں پر اتر آئے تھے۔ ان میں بیشتر لوگ پُرامن طریقے سے مظاہرہ کر رہے تھے۔ تاہم، بعض مقامات پر مظاہرین نے دکانوں میں لوٹ مار کی، پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔
حالات خراب ہوتے دیکھ کر فرانسیسی صدر میکروں نے اتوار کو ٹیلی ویژن پر ملک سے خطاب کیا۔ انہوں نے تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر ناراضگی ظاہر کی۔ میکروں نے کہا کہ کوئی بھی چیز ان حرکتوں کو درست ثابت نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان کے لیے کوئی بہانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فرانس کے شہری اپنے ہی ملک کے خلاف ایسی حرکتیں کیسے کر سکتے ہیں۔ میکروں نے تسلیم کیا کہ پُرامن مظاہرہ کرنے والے لوگوں کے بعض مطالبات جائز ہیں۔ مہنگائی اور عوامی خدمات سے متعلق مسائل کو لے کر لوگوں میں ناراضگی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ پُرامن مظاہرین کے مطالبات کو تشدد کرنے والوں کی حرکتوں سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ میکروں نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان نہیں کیا، البتہ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر مقامی انتظامیہ کو بعض مظاہروں پر پابندی لگانے کا اختیار دیا جائے گا۔ اس کا مقصد سرکاری عمارتوں، دکانوں اور کاروبار کو نقصان سے بچانا ہے۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ کے بعد اتوار کو بھی پیرس اور مارسیے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پیرس کے پلاز دی لا ریپبلک علاقے میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ اس دوران مظاہرین نے سائیکلوں کے ڈھیر میں آگ لگا دی۔ پولیس نے کئی مقامات پر دکانوں میں لوٹ مار روکنے کے لیے کارروائی کی۔ ہفتہ کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران مہنگی اشیا فروخت کرنے والی دکانوں اور سپر مارکیٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تشدد کے بعد کئی شہروں میں صفائی اور نقصان کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ وسطی فرانس کے شہر لیموج میں آگ لگنے سے تاریخی ٹاؤن ہال کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ آگ کے باعث عمارت کا گھڑی والا مینار منہدم ہو گیا۔ شہر کے میئر گیوم گیراں نے کہا کہ عمارت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے وقت عمارت کے اندر موجود لوگوں کو اپنی جان کا خوف تھا۔ اس درمیان میئر نے خبردار کیا کہ اگر شہر کو مرمت کے لیے ضروری سرکاری امداد نہیں ملی تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے پر غور کر سکتے ہیں۔ ٹاؤن ہال میں ہونے والی تباہی نے لوگوں کو 2019 میں پیرس کے نوتردام کیتھیڈرل میں لگنے والی بھیانک آگ کی یاد دلا دی۔
فرانس میں جاری تشدد کے درمیان سیاسی رہنماؤں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی لیڈر مارین لے پین نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اس توڑ پھوڑ کو اظہار کا ذریعہ نہیں مانا جا سکتا۔ فرانس کا مستقبل افراتفری کے سہارے نہیں بنایا جا سکتا۔ دوسری جانب بائیں بازو کے لیڈر ژاں لوک میلینشوں نے میکروں سے احتجاج کرنے والے ہائی اسکول کے طلبا کے مطالبات پر توجہ دینے کو کہا۔ وزیر اقتصادیات رولاں لیسکیور نے تشدد سے متاثرہ کاروباریوں کو سرکاری امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کے ذمہ دار لوگوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا اور ان سے نقصان کی تلافی بھی کرائی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ تشدد کا اثر کاروبار پر بہت زیادہ پڑا ہے۔ فرانس کی ریٹیل کمپنی کیریفور کے سربراہ الیگزینڈر بومپارڈ نے بتایا کہ کمپنی کے 50 اسٹورز کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے 20 اسٹورز میں لوٹ مار ہوئی۔ نقصان کا تخمینہ کئی کروڑ یورو لگایا گیا ہے۔ بہرحال، فرانس میں جاری تشدد نے میکروں حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ حکومت کو ایک طرف مہنگائی اور عوامی خدمات کے حوالے سے لوگوں کی ناراضگی دور کرنی ہے تو دوسری طرف تشدد اور توڑ پھوڑ پر قابو پانا ہے۔ میکروں کی مدت صدارت 2027 میں ختم ہو رہی ہے۔ ایسے میں بڑھتی ہوئی سماجی ناراضگی اور معاشی دباؤ ان کی حکومت کے لیے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
