’یہ نئی سازش ہے‘، ٹرمپ کے ذریعہ جنگ بندی میں توسیع سے ایران ناخوش!

سرکردہ ایرانی لیڈر محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے امریکی ناکہ بندی کے خلاف فوجی جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ-ایران جنگ، قومی آواز گرافکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ دنیا کے سبھی ممالک نے راحت کی سانس لی ہے۔ حالانکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس جنگ بندی سے ’ناخوش‘ ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ-ایران مذاکرہ میں شامل محمد باقر قالیباف کے ایک مشیر نے امریکی صدر کی جنگ بندی توسیع پر شبہات ظاہر کیے ہیں۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق محمد باقر قالیباف کے مشیر نے ٹرمپ کی جنگ بندی توسیع کو ایک طرح سے خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’سرپرائز اٹیک‘ کی تیاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے ایک سازش کے تحت ’سرپرائز اٹیک‘ کی تیاری کے لیے جنگ بندی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے اس مبینہ سازش کو پیش نظر رکھتے ہوئے برسراقتدار طبقہ سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کے مطابق ایران جنگ بندی میں توسیع کے قدم کو اُکساوے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر نے 21 اپریل کو ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کی توسیع کا اعلان کیا۔ حالانکہ انھوں نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری فوج کی ناکہ بندی جاری رکھنے کی ہدایت بھی دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کو بات چیت آگے بڑھانے کے لیے پہلے ’مشترکہ تجویز‘ پیش کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا یہ فیصلہ پاکستانی قیادت کی گزارش اور ایران حکومت کے اندر چل رہی نااتفاقیوں کو دیکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ایران کی حکومت میں عدم اتفاق ہے، اس لیے ہم نے اپنے حملے کو روکنے اور جنگ بندی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جب تک کہ وہ ایک مشترکہ تجویز پیش نہیں کرتے۔‘‘ اس درمیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد کا اپنا مجوزہ دورہ رد کر دیا، جہاں ایران کے ساتھ دوسرے دور کی بات چیت ہونی تھی۔ وہائٹ ہاؤس کے ایک افسر نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ فی الحال تہران کے رخ کا انتظار کر رہا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ایران نے ابھی تک بات چیت میں شامل ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس نے صاف کہا ہے کہ مذاکرہ سے پہلے امریکہ کو ناکہ بندی ہٹانی ہوگی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔