’خود ہی حملے کی ڈیڈ لائن طے کی اور خود ہی پیچھے ہٹے‘، ٹرمپ کے یوٹرن پر ایران کا ردعمل

مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے امریکہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایران کی طاقتور مسلح افواج اور وہاں کے شہریوں کی چٹان جیسی طاقت امریکہ کو پیچھے ہٹنے اور خودسپردگی پر مجبور کر دے گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکہ-ایران جنگ، قومی آواز گرافکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملے کو آخری وقت پر منسوخ کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

محسن رضائی نے ٹرمپ کے فیصلے پر طنز کستے ہوئے لکھا کہ ’’وہ پہلے فوجی حملے کی ڈیڈ لائن طے کرتے ہیں اور پھر خود ہی اسے منسوخ کر دیتے ہیں، اس بیکار امید میں کہ ایرانی عوام اور افسران گھٹنے ٹیک دیں گے۔‘‘ خامنہ ای کے فوجی مشیر نے امریکی انتظامیہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج اور وہاں کے شہریوں کی چٹان جیسی طاقت امریکہ کو پیچھے ہٹنے اور خودسپردگی پر مجبور کر دے گی۔ ان کے اس بیان سے واضح ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ہے۔


دراصل امریکی صدر نے ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل (19 مئی) کو بڑے حملے کی دھمکی دی تھی۔ حالانکہ ممکنہ حملے کو انہوں نے روک دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور قطر کے اعلیٰ رہنماؤں کی اپیل کے بعد لیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’’سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، یو اے کے صدر محمد بن زائد اور قطر کے امیر تمیم بن حمد الثانی نے ان کو پیغام بھیج کر اپیل کی تھی کہ ایران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات چل رہے ہیں، اس لیے فوجی کارروائی کو روک دیا جائے۔ ساتھ ہی یقین دلایا کہ ایران کے ساتھ ’بڑے معاہدے‘ ہونے کا امکان ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ’’کسی بھی بڑے معاہدے کی سب سے اہم شرط یہ ہوگی کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا ’’میں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈینیل کین کو ہدایت دی ہے کہ کل ہونے والے حملے کو مؤخر کر دیا جائے۔ تاہم ہماری فوج پوری طرح تیار ہے اور اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، تو ہم پلک جھپکتے ہی بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔