’دوبارہ بھی آزما لیں، جواب پہلے جیسا ہی ہوگا‘، ٹرمپ کے پیغام پر عباس عراقچی کی سخت تنبیہ
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ڈونالڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز پیغام کے بعد کہا ہے کہ تہران مذاکرات چاہتا ہے لیکن اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو ایران پہلے کی طرح سخت جواب دے گا

تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کا نتیجہ پہلے جیسا ہی ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے سنجیدہ اور صبر آزما بات چیت ضروری ہے۔
ہندوستان میں ایرانی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ اور امن کا معاملہ انتہائی حساس ہے، اس لیے اگر کوئی فریق مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے تو اسے تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پائیدار حل تک پہنچنے کے لیے تفصیلی اور پیچیدہ مذاکرات ناگزیر ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادی ایک بار پھر جنگ کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہوگی، لیکن ایران پہلے بھی ایسے حالات کا سامنا کر چکا ہے اور دوبارہ بھی ویسا ہی جواب دے گا۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی ایران کو آزمایا گیا، مگر نتائج مختلف نہیں رہے۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ایک تصویر شیئر کی، جس میں وہ امریکی بحریہ کے ایک ایڈمرل کے ساتھ طوفانی سمندر میں ایک جنگی جہاز پر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ تصویر میں پس منظر میں ایرانی جہاز بھی نظر آ رہے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ ٹرمپ نے لکھا تھا، ’’یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔‘‘
ٹرمپ کی اس پوسٹ کو عالمی سطح پر ایران کے لیے ایک بالواسطہ دھمکی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی میڈیا میں یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ اپنے قریبی مشیروں کے ساتھ ایران پر ممکنہ فضائی حملوں کے سلسلے میں مشاورت کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ ایران کے حوالے سے بڑا فیصلہ لینے کی تیاری میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام رہتی ہیں تو نئے فضائی آپریشن کے متبادل منصوبوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد کوئی امن معاہدہ نہ ہوا تو تہران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فرانسیسی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک ٹیلی فون انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران بھی کسی نہ کسی سمجھوتے میں دلچسپی رکھتا ہے، لیکن حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
