برطانیہ میں سابق جاسوس پر حملہ میں روس کا ہاتھ: مئے

برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا مئے

روس کی فوجی عدالت نے 2006 میں غداری کے معاملہ میں سرگئی اسكرپل کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔

لندن: برطانیہ نے کہا ہے کہ سابق جاسوس سرگئی اسكرپل اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کے معاملے میں روس کا ہاتھ ہے۔

برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا مئے نے ممبران پارلیمنٹ سے کہا کہ جس طرح کا نرو ایجنٹ حملے میں استعمال کیا گیا تھا وہ فوجی گریڈ کا اور روس کی طرف سے تیارکیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملہ کے لئے روس کے ہونے کا بہت زیادہ امکان ہے۔

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ایک دو دن میں اگر اس پر ان کی جانب سے کوئی ٹھوس جواب نہیں ملتا ہے تو برطانیہ اس کو روس کی طرف سے طاقت کے غیر قانونی استعمال کے طور پر مانے گا۔ ا سكرپل اور ان کی بیٹی سیلسبری سٹی سینٹر میں ایک بنچ پر بیہوشی کی حالت میں ملے تھے۔

قابل غور ہے کہ روس کی فوجی عدالت نے 2006 میں غداری کے معاملہ میں سرگئی اسكرپل کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔ مئے نے کہا ’’یا تو یہ روس کی طرف سے ہمارے ملک پر براہ راست حملہ ہے یا پھر روسی حکومت نرو ایجنٹ پر کنٹرول کھو چکی ہے اور اس نے اسے دوسرے لوگوں کے ہاتھوں میں جانے کی اجازت دی ہے‘‘۔

دریں اثنا برطانیہ کی دفتر خارجہ نے بھی روسی سفیر سے اس معاملہ پر انہیں اپنا موقف رکھنے کو کہا ہے۔ سکریٹری خارجہ بورس جانسن نے روس کے سفیر کو ’نوویچوك پروگرام ‘کی مکمل تفصیلات انسداد کیمیائی اسلحہ تنظیم کو دینے کو کہا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول