امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو جنگ ہو سکتی ہے: روس

روسی سفیر وسیلی نیبنزیا

روس نے امریکہ کے خلاف سخت تیور اختیار کرتے ہوئے امریکہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہو سکتی ہے۔

شام کو لے کر جس طرح کے حالات ہیں اس سے جنگ کے امکانات بڑھتے نظر آرہے ہیں ۔ اب اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نیبنزیا نےکہا ہے کہ اس و قت ہماری ترجیح جنگ کو ٹالنا ہے ۔ انہوں نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ صورتحال کو خراب کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی ممالک شام میں حملے کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ روس اس طرح کے کسی بھی حملے کا سخت مخالف ہے ۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں شرکت کے بعد وسیلی نیبنزیا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہم کسی بھی امکان کو رد نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب وہائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ’کیمیائی حملے‘ کے ردِعمل پر غور کر رہے ہیں۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے دفتر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابینہ کے وزیروں نے ’کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال کو روکنے کے لیے شام میں کارروائی کرنے کی ضرورت‘ پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اس تعلق سے امریکی صدر ٹرمپ سے بھی بات کی ہے۔

اس سے قبل فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں نے جمعرات کو کہا کہ فرانس کے پاس شواہد ہیں کہ شام کے شہر دوما میں گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیار یا کم از کم کلورین کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ ہتھیار بشار الاسد کی حکومت نے استعمال کیے ہیں۔ دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا ، تاہم اس کی حمایت کرے گا۔انھوں نے کہا ’میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ابھی تک شام پر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر فیصلہ ہو جاتا ہے تو جرمنی اس کا حصہ نہیں ہو گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ جرمنی اس کارروائی کی حمایت کرے گا تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ شام کے شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں ممکنہ فوجی آپریشن ’بہت جلد یا کافی عرصے بعد‘کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’یہ کبھی نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہو گا۔‘

سب سے زیادہ مقبول