’جہاد اور بدلہ کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں‘، مجتبیٰ خامنہ ای نے حزب اللہ کی حمایت میں دیا بیان
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح لفظوں میں کہا کہ ایران حزب اللہ کے جنگجوؤں کے تحفظ کو اپنی اسٹریٹجک ذمہ داری سمجھتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پیر کو حزب اللہ کے جنگجوؤں کی حمایت میں ایک اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران حزب اللہ کے جنگجوؤں کے تحفظ کو اپنی اسٹریٹجک ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لبنان کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائی کو مکمل طور پر اور بغیر کسی شرط کے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ خامنہ ای نے یہ بیان حزب اللہ کے جنرل سکریٹری شیخ نعیم قاسم اور تنظیم کے جنگجوؤں کی جانب سے بھیجے گئے حمایت کے خط کے جواب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا۔ انہوں نے حزب اللہ کے صبر، وقار اور قربانی کی تعریف کی اور تنظیم کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے محاذ پر ایک اٹل چٹان قرار دیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران حزب اللہ کے تحفظ اور لبنان کی علاقائی سالمیت کو اپنی اسٹریٹجک ذمہ داری سمجھتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ جاری مسلط کردہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی معاہدے میں لبنان کے خلاف اسرائیل کی جارحانہ کارروائی کو مکمل طور پر ختم کرنا شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاد اور مزاحمت کے علاوہ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ مسلسل مزاحمت بالآخر ان لوگوں کو فتح دلائے گی، جو حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر نے جنوبی لبنان کے لوگوں کے صبر اور حمایت کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے مارے گئے حزب اللہ کے لیڈر سید حسن نصراللہ اور مزاحمتی تحریک کے دیگر کمانڈروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے تنظیم کو ایک ننھے پودے سے طاقتور درخت میں تبدیل کر دیا اور پوری اسلامی دنیا میں لبنان کا احترام بڑھایا۔
قابل ذکر ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔ تاہم گزشتہ 2 دنوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان حملے رک گئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائک والٹز نے ’فاکس نیوز‘ سے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ بات چیت کو کچھ مزید وقت اور موقع دے رہے ہیں۔ ایران کے فوجی ترجمان نے بھی سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ امریکہ نے گزشتہ 2 راتوں سے حملے روک رکھے ہیں اور ایران نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔
ایران نے پیر کے روز مطلع کیا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ طور پر پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ہفتوں تک جاری رہنے والی فوجی تصادموں کے باوجود سفارتی راستے کھلے ہوئے ہیں۔ یہ باتیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی فضائی حملے روکنے کے بعد دونوں ممالک نے مسلسل تیسرے دن کوئی نیا حملہ نہیں کیا، جس سے کچھ امید پیدا ہوئی ہے کہ تصادم مزید نہیں بڑھے گا۔
اس درمیان اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو منگل کو واشنگٹن میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ نیتن یاہو نے ’فاکس نیوز‘ سے کہا کہ وہ ایران کو کمزور کرنے اور اس کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ کسی نئے بڑے فوجی تصادم کے بغیر ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے اشارہ دیا کہ وہ ٹرمپ کو کوئی نئی معلومات دینے کے بجائے یہ سننا چاہیں گے کہ امریکی صدر کے ذہن میں کیا منصوبہ ہے۔ تاہم انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے دوبارہ اسرائیل پر براہ راست یا اپنے اتحادی مسلح گروہوں کے ذریعے حملہ کیا تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
