ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ’انتقامی فہرست‘ جاری، ٹرمپ، نیتن یاہو اور میلونی سمیت 13 عالمی رہنما شامل

اپنے والد کی آخری رسومات کے بعد پہلی بار سامنے آئے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’’بدلہ لینا ہمارے ملک کی خواہش ہے اور اسے ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>
i

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک انتقامی فہرست (ریوینج لسٹ) جاری کی ہے۔ ایران کے ایک قومی روزنامے ’ہم شہری‘ کی جانب سے جاری کردہ اس آن لائن فہرست میں دنیا کے 13 بڑے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ فہرست آیت اللہ علی خامنہ ای کے 6 دنوں تک جاری رہنے والی آخری رسومات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس فہرست کو ایک گرافک کی شکل میں جاری کیا گیا ہے، جس میں رہنماؤں کو 2 زمروں میں دکھایا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی تصویروں کی پیشانی پر اسنائپر گن کا ’کراس ہیئر‘ (نشانہ لگانے والا دائرہ) لگایا گیا ہے۔ ان کے بالکل نیچے 11 دیگر رہنماؤں کو زعفرانی رنگ کی جیل کی وردی میں دکھایا گیا ہے۔

اپنے والد کی آخری رسومات کے بعد پہلی بار سامنے آئے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ’’بدلہ لینا ہمارے ملک کی خواہش ہے اور اسے ہر حال میں پورا کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے آگے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ مجرمین، جن کے نام اس فہرست میں شامل ہیں، وہ اپنے بستر پر سکون سے مرنے کا خواب دیکھتے ہوئے ہی قبر میں جائیں گے۔‘‘ حالانکہ اس گرافک کے جاری ہونے کے باوجود اب تک ایرانی حکومت کی طرف سے اسے باضابطہ طور پر منظوری دینے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ وہ اپنے والد کی موت کا براہ راست ذمہ دار کسے مانتے ہیں۔ واضح رہے کہ مجتبیٰ خود بھی 28 فروری کو ہونے والے اسی حملے میں زخمی ہو گئے تھے، جس میں ان کے والد کی موت ہوئی تھی۔


مجتبی خامنہ ای کی یہ فہرست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی میڈیا نے رپورٹ دی ہے کہ ایران ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے واشنگٹن کے ساتھ ایک مخصوص قتل کی سازش سے متعلق معلومات شیئر کی تھیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر ترکی میں ناٹو سربراہی اجلاس سے واپس لوٹتے وقت صدر ٹرمپ نے اپنا طیارہ تبدیل کر دیا اور ایک پرانے طیارے سے سفر کیا۔ ایئرفورس ون طیارے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’وہ امریکی رہنما یعنی مجھے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ میں ان کی ہر ایک فہرست میں شامل ہوں۔‘‘

واضح رہے کہ مذکورہ واقعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب فریقین نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں امریکہ نے اتوار کی صبح ایران کے تقریباً 140 ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ جواب میں تہران نے دعویٰ کیا کہ جہازوں نے ان کے طے کردہ راستے کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو تب تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے، جب تک کہ اس خطے میں امریکی مداخلت پوری طرح ختم نہیں ہو جاتی۔ واضح رہے کہ یہ سمندری راستہ دنیا کی کل تیل اور قدرتی گیس کی نقل و حمل کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتا ہے۔


امریکی حملوں کے بعد ایران نے بحرین، کویت، قطر اور عمان جیسے خلیجی ممالک پر بھی تنقید کی ہے۔ قطر (دوحہ) نے ان حملوں کو خطرناک حد تک صورتحال کو بھڑکانے والا قدم قرار دیا ہے، جبکہ عمان نے بھی اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’یک طرفہ معاہدوں کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے آپ سے کہا تھا کہ اپنا وعدہ نبھاؤ یا قیمت چکاؤ۔ حقیقت اب آپ کے سامنے ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔