چاہ کر بھی کسی ملک پر حملہ نہیں کر پائے گا امریکہ، پارلیمنٹ میں ٹرمپ حکومت کے خلاف 5 تجاویز لانے کی تیاری میں اپوزیشن
امریکی پارلیمنٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف 5 تجاویز لا کر کسی بھی ملک کے خلاف حملہ روکنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ رواں ماہ کے آخر میں ان تجاویز کو ایوان میں رکھا جائے گا۔

وینزویلا میں نکولس مادورو کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد امریکہ کا حوصلہ کافی بلند نظر آ رہا ہے۔ اس کارروائی کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے 6 ممالک میں فوجی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے جن ممالک کو دھمکی دی ہے، ان میں ایران، کولمبیا، کیوبا، گرین لینڈ اور میکسیکو شامل ہیں۔ حالانکہ امریکہ کے سیاسی گلیاروں سے جو اِن پٹ نکل کر سامنے آ رہے ہیں، اس کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے آنے والے وقت میں کسی ملک پر حملہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکی پارلیمنٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف 5 تجاویز لا کر کسی بھی ملک کے خلاف حملہ روکنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ رواں ماہ کے آخر میں ان تجاویز کو ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اگر یہ تجاویز امریکی پارلیمنٹ سے پاس ہو جاتی ہیں تو ٹرمپ بیک فٹ پر چلے جائیں گے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی پہلی کوشش جنگی طاقتوں کو کنٹرول کرنے سے متعلق ایک تجویز پر ایوان میں ووٹنگ کرانے کی ہے۔ اس سے وائٹ ہاؤس پر اراکین پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر کسی ملک پر حملہ نہ کرنے کا دباؤ بنے گا۔ حکومت اگر اراکین پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیتی ہے تو معاملہ پہلے ہی لیک ہو جائے گا۔ ایسے میں کسی دیگر ملک پر حملہ کرنا ٹرمپ حکومت کے لیے آسان نہیں ہونے والا ہے۔
ڈیموکریٹس اراکین پارلیمنٹ کی ایک کوشش یہ بھی ہے کہ امریکی حکومت ایوان میں ہر بار بتائے کہ کس مہم پر وہ کتنا پیسہ خرچ کرنے جا رہی ہے۔ اپوزیشن اس کے ذریعہ ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ (ماگا) مہم کو جھٹکا دینے کی تیاری میں ہے۔ دراصل امریکہ میں انتخابی مہم کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ صدر بننے کے بعد دوسرے ممالک پر ہونے والی مہم میں ایک بھی پیسہ خرچ نہیں کریں گے۔
امریکی آؤٹ لیٹ ایکسیوس کے مطابق 30 جنوری کو امریکی پارلیمنٹ میں حکومتی فنڈنگ کی ڈیڈ لائن سے متعلق ایک تجویز آ رہی ہے۔ ڈیموکریٹس کے اراکین پارلیمنٹ اسے روکنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے لیے واشنگٹن میں ایک خفیہ میٹنگ کی گئی ہے۔ اگر یہ تجویز رک جاتی ہے تو حکومت کو دفاعی بجٹ خرچ کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پنٹاگن کو مل رہے فنڈ میں کٹوتی کےلیے تجویز لانے کی تیاری میں ہیں، تاکہ پنٹاگن کو کافی بجٹ نہ مل سکے۔ یہ تجویز ایسے وقت میں لانے کی تیاری کی جا رہی ہے جب ٹرمپ کا دفاعی بجٹ تقریباً 135 لاکھ کروڑ روپے کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ہر ہفتہ ایک رپورٹ جاری کریں گے، جس میں بتایا جائے گا کہ جو ٹرمپ کر رہے ہیں، اس سے امریکہ اور اس کے شہریوں کو آنے والے وقت میں کیا کیا نقصان ہوں گے؟ نویارک کے میئر ظہران ممدانی اور سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے بھی وینزویلا کارروائی کی کھل کر مخالفت کی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔