امریکی صدر نے شیئر کیا فرانسیسی صدر کا ’ذاتی پیغام‘، ٹرمپ نے میکروں کا اڑایا مذاق!
سوشل ٹروتھ پر شیئر کردہ ’لیک میسج‘ میں میکروں گرین لینڈ سے متعلق ٹرمپ سے ذکر کر رہے ہیں۔ میکروں میسج میں ٹرمپ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ گرین لینڈ سے متعلق جو کر رہے ہیں، وہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ صرف ٹیرف معاملہ پر ہی نہیں، بلکہ کئی مختلف وجوہات کے سبب بھی مستقل سرخیوں میں ہیں۔ تازہ معاملہ فرانسیسی صدر امینوئل میکروں کے ایک ’ذاتی پیغام‘ سے متعلق ہے، جسے ٹرمپ نے لیک کر دیا ہے۔ میکروں نے اس میسج میں ٹرمپ سے کچھ ذاتی گزارشات کی تھیں، جس کا ٹرمپ مذاق اڑاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یہ ’ذاتی پیغام‘ ایسے وقت میں لیک کیا گیا ہے، جب ٹرمپ اور میکروں کے درمیان رسہ کشی کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے فرانس کی شراب پر 200 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کی دھمکی دی ہے اور گرین لینڈ معاملہ پر بھی فرانس اور امریکہ میں رسہ کشی والا ماحول ہے۔ ان حالات میں ’سوشل ٹروتھ‘ پر شیئر لیک میسج نے عالمی سطح پر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ لیک میسج میں میکروں گرین لینڈ کو لے کر ٹرمپ سے کچھ گزارش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ سے میکروں کہہ رہے ہیں کہ ’آپ گرین لینڈ سے متعلق جو کر رہے ہیں، وہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے۔‘
ٹرمپ نے میکروں کے حوالہ سے جو اسکرین شاٹ شیئر کیا ہے، اس میں لکھا ہے– ’میرے دوست، شام کے ایشو پر ہم پوری طرح متفق ہیں۔ ہم ایران کے معاملہ میں بہت کچھ کر سکتے ہیں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ آپ گرین لینڈ پر کیا کر رہے ہیں؟ آئیے اہم چیزوں کی تعمیر کی کوشش کرتے ہیں۔‘ میکروں نے 2 اہم مشورے بھی ٹرمپ کو دیے ہیں، جو اس طرح ہیں:
میں داووس کے بعد جمعرات کی دوپہر کو پیرس میں جی-7 کی میٹنگ منعقد کر سکتا ہوں۔ میں یوکرینین، ڈینش، شامی اور روسی نمائندوں کو بھی مدعو کر سکتا ہوں۔
اگر آپ چاہیں تو آپ کے امریکہ لوٹنے سے قبل جمعرات کو پیرس میں ہم ساتھ میں ڈنر کریں۔
اس میسج کے آخر میں ’امینوئل‘ نام لکھا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے اسی طرح ناٹو چیف مارک روٹے کا بھی ’چیٹ‘ سوشل میڈیا پر لیک کر دیا ہے۔ روٹے اس میں ٹرمپ کی تعریف کر رہے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں شیئر کیا گیا ہے، جب گرین لینڈ سے متعلق ناٹو ممالک امریکہ کی گھیرابندی میں مصروف ہیں۔
بہرحال، ڈونالڈ ٹرمپ منگل کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امینوئل میکروں کا مذاق اڑاتے نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میکروں اب فرانس سے جا رہے ہیں۔ ہم انھیں سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ میکروں زیادہ اِدھر اُدھر کریں گے تو ہم فرانس سے آنے والے شرابوں پر 200 فیصد کا ٹیرف لگا دیں گے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’جب وہ میرے پاس آتے ہیں تو ٹیرف معاملہ پر خوفزدہ رہتے ہیں۔‘‘