افغان مہاجرین سے متعلق نیا منصوبہ متعارف کرانے کے لیے امریکہ تیار

امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے آئندہ چند روز میں منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیے جانے کی توقع ہے جسے ’پرائیرٹی ٹو ریفیوجی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے بعض افغان باشندوں کو بطور پناہ گزین امریکہ کے دیگر حصوں میں آباد کرنے کا نیا منصوبہ متعارف کرائے جانے کی بات کہی ہے۔ غیرملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے متعلق امریکی انتظامیہ کے عہدیدار اور دو آزاد ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ امریکہ کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے آئندہ چند روز میں منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیے جانے کی توقع ہے جسے ’پرائیرٹی ٹو ریفیوجی‘ کا نام دیا گیا ہے۔اس حوالے سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تاحال تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

مذکورہ منصوبے سے متعلق انکشاف ایسے وقت پر ہوا ہے جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا رواں ماہ کے تک مکمل ہوجائے اور دوسری جانب جنگ زدہ ملک میں طالبان کا اثرو رسوخ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔جوبائیڈن کو قانون سازوں اور سماجی حقوق کے اداروں کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ جو افغان شہری افغانستان میں جاری جنگ میں امریکی افواج کا ساتھ دیتے رہے ان کے کچھ کیا جائے کیونکہ وہ طالبان کے انتقام کا نشانہ بن سکتے ہیں۔


ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کے حکام نے کہا کہ نیا پروگرام سے وہ افغان شہری مستفید ہوسکیں گے جو امریکی فنڈز پر چلنے والے پروگرام، غیر سرکاری اداروں اور میڈیا سے وابستہ تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ افغان باشندے جو بطور مترجم یا امریکی حکومت کے لیے کام کرتے تھے وہ اسپیشل امیگریشن ویزا (ایس آئی ویو) پروگرام کے اہل نہیں ہوں گے۔

ایس آئی وی درخواست گزاروں کی تعداد 200 سے ہیں جو آخری مراحل میں ہیں اور ان کے اہلخانہ گزشتہ ہفتے امریکہ پہنچے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت 50 ہزار سے زائد افراد امریکا پہنچیں گے۔ انہیں ورجینیا کے ملٹری بیس میں رکھا گیا جہاں ضروری کارروائی کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں آباد کیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔