ایران-عمان معاہدے کا مسودہ تیار، مجتبیٰ خامنہ ای کی حتمی منظوری کا انتظار!
حکام کے مطابق ایران-عمان معاہدہ فی الحال عارضی ہوگا اور اس کے بعد امریکہ و ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر دوبارہ گفتگو شروع ہو سکتی ہے۔

مغربی ایشیا میں 160 دنوں سے امن و امان کی بحالی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران سے جنگ شروع کی تھی۔ اسلام آباد میں معاہدے کے بعد تقریباً 10 دنوں تک امن قائم رہا، اور کچھ ہی دنوں بعد دوبارہ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو لے کر حالات کب معمول پر آئیں گے۔ در اصل ایران اور عمان نے جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کا مسودہ تیار کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ بندی سے متعلق اس معاہدے کو اب حتمی منظوری کا انتظار ہے۔ اس معاہدہ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی معمول پر آنے کی امید ہے۔ ٹرمپ نے بھی ڈیل کے تعلق سے اہم بیان دیا ہے۔ طویل عرصے سے جاری جنگ میں امریکہ کے ہتھیاروں کی کمی کو لے کر پینٹاگون کے علاوہ کئی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس جنگ میں کئی امریکی فوجیوں کی بھی موت ہوئی ہے۔ ایسے میں امید کی جا رہی ہے کہ اقتصادی اور فوجی نقصانات جیسے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اس ہفتے معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’بات چیت کافی آگے بڑھی ہے اور کچھ دنوں میں اعلان ہو سکتا ہے۔‘‘ اس درمیان ایران اور عمان کے مذاکرات کاروں نے معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اب اس مسودے کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔ حکام کے مطابق یہ معاہدہ فی الحال عارضی ہوگا اور اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر دوبارہ گفتگو شروع ہو سکتی ہے۔
امریکہ پہلے ہی صاف کہہ چکا ہے کہ وہ ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا، جس سے ایران کو آبنائے ہرمر پر مکمل اختیار مل جائے اور وہ جہازوں سے ٹیکس وصول کرے۔ حالانکہ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’’عمان کے ساتھ معاہدے کا مسودہ حتمی مرحلے میں ہے اور کوئی رکاوٹ نہ آئی تو جلد مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے لیے بہت اہم سمندری راستہ ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی اسی راستے سے ہوتی تھی۔ جنگ کے دوران اس راستے پر جہازوں کی آمد و رفت تقریباً ٹھپ ہو گئی، جس کی وجہ سے تیل اور ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ گئیں اور عالمی معیشت پر دباؤ پڑا۔ آبنائے ہرمز پر معاہدے کی امیدوں کے درمیان بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی باغیوں نے بدھ کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے ینبو بندرگاہ کے قریب سعودی عرب کے تیل بردار ٹینکر پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔ حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا ہے اور سعودی عرب نے بھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل جولائی میں حوثیوں نے سعودی عرب سے وابستہ جہازوں کے لیے آبنائے باب المندب کو بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
