قندھار مسجد میں بم دھماکہ میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 40 ہوئی، کچھ کی حالت اب بھی سنگین

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور تین تھے، ایک نے مسجد کے دروازے پر خود کش دھماکہ کیا، اور باقی دو نے مسجد کے اندر خودکش دھماکے کیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کابل: افغانستان کے شہر قندھار کی مسجد میں جمعہ کے روز ہونے والے خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 40 پہنچ گئی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی تعداد تقریباً 70 ہے، جن میں سے کچھ کی حالت اب بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔ زخمیوں کا علاج مختلف اسپتالوں میں جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور تین تھے، ایک نے مسجد کے دروازے پر خود کش دھماکہ کیا، اور باقی دو نے مسجد کے اندر خودکش دھماکے کیے۔ غیرملکی میڈیا سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق دھماکہ نماز جمعہ کے اجتماع کے دوران ہوا۔ دھماکہ کے بعد مسجد میں اور مسجد کے باہر افرا تفری کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ ہر طرف چیخ و پکار مچی ہوئی تھی۔


واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ یعنی 8 اکتوبر کو بھی افغانستان کے شہر قندوز میں مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ ہوا تھا۔ اس حملے میں 100 سے زائد لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں اور کچھ خبروں میں زخمیوں کی تعداد 200 کے قریب بتائی گئی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ قندوز اور قندھار دونوں ہی جگہ مساجد میں ہوئے دھماکے کے لیے ذمہ دار داعش ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔