دنیا بھر میں زلزلوں کی دہشت! کولمبیا میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 314 ہوئی، انڈونیشیا میں 5 دنوں کے اندر آیا تیسرا زلزلہ

’بی کے ایم جی‘ کے مطابق انڈونیشیا میں 19 اگست تک 3000 سے زائد آفٹرشاک درج ہو چکے تھے۔ ان میں سے درجنوں کو لوگوں نے محسوس کیا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ 3 سے 4 ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>زلزلہ کے بعد منہدم ایک عمارت، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/ZeroBarkThirty2">@ZeroBarkThirty2</a></p></div>
i

رواں ماہ دنیا کے کئی ممالک میں زلزلے آئے ہیں، جس نے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا، کولمبیا، اسپین، مصر اور جاپان ان ممالک میں شامل ہیں جہاں اگست 2026 میں زلزلوں نے کچھ نہ کچھ نشانات ضرور چھوڑے۔ کہیں ہلاکتیں ہوئیں تو کہیں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ خاص طور سے انڈونیشیا اور کولمبیا میں زلزلہ سے سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انڈونیشیا میں گزشتہ 5 دنوں کے اندر 3 زلزلے محسوس کیے گئے ہیں۔ بدھ کی شام بھی انڈونیشیا میں تقریباً 5.9 شدت کا زلزلہ آیا، جس نے لوگوں میں دہشت کی نئی لہر پیدا کر دی۔

تازہ زلزلہ بھی انڈونیشیا کے مشرقی نوسا تینگارا صوبے میں واقع فلوریس جزیرہ پر آیا ہے۔ اس خطہ میں زلزلے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ 15 اگست کو صبح 7.7 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا تھا۔ اسی روز شام میں تقریباً 12 گھنٹے کے بعد شمالی سماترا میں 6.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس روز زلزلے کے باعث کئی عمارتیں منہدم ہو گئی تھیں اور 38 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ 5 روز بعد 20 اگست کو یورپی-میڈیٹیرینین سیسمولوجیکل سنٹر (ای ایم ایس سی) اور جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنسز (جی ایف زیڈ) نے فلوریس میں 5.9 شدت کا ایک اور زلزلہ ریکارڈ کیا۔ اس کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔


واضح رہے کہ 15 اگست کے زلزلہ کے بعد کئی آفٹر شاکس آئے، جن میں 17 اگست کو آیا آفٹر شاک بھی شامل ہے۔ اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.9 درج کی گئی تھی۔ مسلسل زلزلوں کے جھٹکوں نے پہلے سے خوفزدہ لوگوں کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اب بھی 15 اگست کو آئے زلزلے کے ملبے کو ہٹانے میں مصروف ہیں۔ 7.7 کی شدت والا زلزلہ فلوریس بیک-آرک تھرسٹ فالٹ کی سرگرمی کے باعث آیا تھا۔ یو ایس جی ایس کے مطابق اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی اور مرکز اینڈے شہر سے تقریباً 68 کلومیٹر شمال-شمال-مغرب میں سمندر میں تھا۔ کم گہرائی کی وجہ سے جھٹکے انتہائی تیز محسوس ہوئے تھے۔ چھوٹی سنامی لہریں بھی آئیں، جن کی اونچائی کچھ جگہوں پر 1.61 میٹر تک درج ہوئی۔ وارننگ جاری ہونے کے بعد لوگ اونچے مقامات کی طرف بھاگے لیکن بعد میں خطرہ ٹل گیا۔ مرکزی زلزلے کے بعد کئی آفٹر شاک آئے، جن میں کچھ 5.1، 5.6 اور 6.1 کی شدت کے تھے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق شروعاتی دنوں میں اموات کا اعداد و شمار 53 کے آس پاس بتایا جا رہا تھا۔ بعد میں جیسے جیسے دور دراز کے گاؤں تک ریسکیو ٹیمیں پہنچیں، اموات کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ 15 اگست کو آئے زلزلے کے باعث 70 سے 73 لوگوں کی موت ہوئی اور 1100 افراد زخمی ہوئے تھے۔ 17 اگست کے آفٹر شاک سے مزید 2 موتیں ہوئیں۔ منگرائی اور مشرقی منگرائی میں سب سے زیادہ جانیں گئیں۔ تقریباً 12 ہزار گھر منہدم ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ 900 سے زائد گھر مکمل طور سے تباہ ہو گئے۔ 5 ہزار سے شروع ہو کر بعد میں 40 ہزار سے زائد لوگ عارضی کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہو گئے۔ سینکڑوں اسکول، صحت کے مراکز، عبادت گاہ اور سرکاری عمارتیں متاثر ہوئیں۔ لینڈسلائیڈنگ نے سڑکوں کو بند کر دیا بجلی اور مواصلات کا نظام ٹھپ ہو گیا۔


قابل ذکر ہے کہ 20 اگست کو آنے والا 5.9 شدت کا زلزلہ بھی کم گہرائی میں آیا، ای ایم ایس سی نے اس کی تصدیق کی۔ اس سے قبل 17 اگست کو جی ایف زیڈ نے اسی علاقے میں 5.9 شدت کا زلزلہ درج کیا تھا۔ کچھ رپورٹس میں روٹینگ کے پاس 5.7 شدت کے زلزلے کا بھی ذکر ہے۔ یہ تمام آفٹرشاک پہلے آئے زلزلے سے منسلک تھے۔ بی کے ایم جی کے مطابق 19 اگست تک 3000 سے زائد آفٹرشاک درج ہو چکے تھے۔ ان میں سے درجنوں کو لوگوں نے محسوس کیا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ 3 سے 4 ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، تاہم ان کی شدت میں آہستہ آہستہ کمی آئے گی۔ کم گہرائی والے جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس ہوتے ہیں۔ پہلے سے کمزور عمارتوں کے لیے خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔

دوسری جانب کولمبیا میں پیر (17 اگست) کی صبح 7:34 بجے 7.4 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے باعث مرنے والوں کی تعداد 314 ہو گئی ہے اور 4611 لوگ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 262 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ یونٹ نے بتایا کہ زلزلے کے باعث تقریباً 277 عمارتیں منہدم ہو گئیں اور 30 ہزار گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں ملبے کے نیچے پھنسے یا لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔


کولمبیا کے صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے معاشی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے حکومت کو امداد، بحالی اور تعمیر نو کے کاموں میں تیزی لانے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اسی دوران، کولمبیا کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ ملک میں 220 ٹن سے زائد انسانی امدادی سامان پہنچ چکا ہے، اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے 144 بین الاقوامی ماہرین بھی موجود ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔