طالبان کا دعویٰ، کابل میں ہندواقلیتوں کو ہراساں کرنے والے گرفتار

گردوارے پر حملے سے فکرمند افغان ہندووں اورسکھوں نے حکومت ہند سے اپنے فوری انخلا کی اپیل کی تھی۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مسلح افراد کے ذریعہ ایک گرودوارے میں توڑپھوڑکے بعد ملک میں اقلیتوں کی سلامتی کے تعلق سے خدشات کے درمیان وہاں کے اقتدارپرقابض طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےدعویٰ کیا کہ کابل میں ہندو اقلیتوں کوہراساں کرنے والے لوگوں کو کابل کی پولیس نے گرفتار کرلیا ہے اوران کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

قائم مقام نائب وزیر اطلاعات مجاہد نے ٹویٹ کرکے یہ معلومات دی۔ گردوارے پر حملے سے فکرمند افغان ہندووں اورسکھوں نے حکومت ہند سے اپنے فوری انخلا کی اپیل کی تھی۔


قابل ذکر ہے کہ 5 اکتوبر کو طالبان کی طرح نظرآنے والے بھاری ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں کا ایک گروہ گردوارہ کرتے پروان میں داخل ہوگیا اورسی سی ٹی وی کیمروں کوتوڑنے اورڈیوٹی پرتعینات گارڈ کو یرغمال بنانے کے بعد احاطے سے نکل گیا۔

سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج مقامی طالبان حکام کے حوالے کیے جانے کے باوجود گردوارے میں توڑ پھوڑ کرنے والے مسلح افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہوئی ہے۔ افغان ہندوؤں اور سکھوں کی کونسل نے ہفتے کے روز گردوارے میں ایک میٹنگ کی، جس میں افغانستان میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے "نامعلوم قوتوں" کے ذریعہ ایک گردوارے میں توڑ پھوڑ اورجمعہ کو شمالی شہر قندوز کی شیعہ مسجد پر ناپاک حملے پر تبادلہ خیال کیا، جس میں ہزارہ برادری کے کئی بے گناہ لوگ مارے گئے۔


کونسل نے گردوارے میں توڑ پھوڑ پرامارت اسلامیہ افغانستان سے مناسب تحقیقات اورجوابدہی طے کرنے کامطالبہ کیا۔انہوں نے افغانستان سےاقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی اپیل کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔