سری لنکا: صدر گوٹابایا کا قوم سے خطاب، راج پکشے خاندان سے کابینہ میں کوئی نہیں ہوگا

سری لنکا کے صدر نے تمام شہریوں سے تحمل، رواداری اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ملک کو نسلی اور مذہبی تفریق کی طرف دھکیلنے کی تخریبی کوششوں سے بچانا ہوگا

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کولمبو: سری لنکا میں پرتشدد مظاہروں کے درمیان کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور تشدد کے مرتکب افراد کو گولی مارنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس دوران سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکشے نے قوم سے دوسرے مرتبہ خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر نئی حکومت تشکیل دی جائے گی اور نئے وزیراعظم کی تقرری کے ساتھ کابینہ کا بھی انتخاب کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلی حکومت میں راج پکشے خاندان سے کوئی نہیں ہوگا۔

صدر گوٹابایا نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جس کے پاس اکثریت ہوگی، اس کی حکومت بنے گی اور کابینہ کے وزرا کا انتخاب بھی اس کے بعد کیا جائے گا۔ ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تشدد میں ملوث نہ ہوں اور احتجاج کرنا بند کریں۔ سری لنکا کے صدر راج پکشے نے کہا کہ ایوان کو مزید اختیارات دینے کے لیے پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔


صدر نے کہا کہ ملک میں حکومت بننے کے بعد استحکام آئے گا۔ اس کے لیے تمام فریقین سے بات چیت کی جائے گی اور مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام اور املاک کو بچانے کے لیے سب کا تعاون ضروری ہے۔ تشدد پر بات کرتے ہوئے گوٹابایا نے کہا کہ وہ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ اس معاملے کی انکوائری کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ تشدد، قتل و غارت، آتش زنی، تخریب کاری اور ایسی کسی بھی کارروائی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکسے نے اپنے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ لوگوں کو نسلی اور مذہبی تفریق کی طرف دھکیلنے کی "تخریب انگیز کوششوں" کو مسترد کریں۔خطاب سے قبل صدر راج پکسے نے ٹویٹ کیا، "اس بحران کے دوران، یہاں کے تمام شہریوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ ہم تمام معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجوں پر قابو پا سکیں۔"


راج پکسے نے کہا، "میں سری لنکا کے تمام شہریوں سے تحمل، رواداری اور بقائے باہمی کو فروغ دینے کی اپیل کرتا ہوں، اور ساتھ ہی ساتھ انہیں نسلی اور مذہبی تفریق کی طرف دھکیلنے کی تخریبی کوششوں کو بھی مسترد کرتا ہوں۔"

سری لنکا کے صدر نے ایک ایسے وقت میں اپنے شہریوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے جب سری لنکا کے عوام کو گزشتہ چند ماہ سے خوراک، ایندھن اور ادویات سمیت ضروری اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ معاشی بحران کا شکار سری لنکا میں دو روز گزرنے کے بعد بھی حکومت نواز اور حکومت مخالف تشدد جاری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔