سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان شدید جنگ کے آثار نمایاں، یمن کی زمین پر اب تک 20 اموات کی تصدیق
ہوائی حملے سیون اور الخاصہ علاقوں میں موجود فوجی ٹھکانوں پر کیے گئے۔ ان حملوں میں ایک فوجی اڈہ اور ہوائی اڈہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے علاقہ میں ہوائی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔

یمن میں جاری طویل جدوجہد نے ایک بار پھر تشدد والی شکل اختیار کر لی ہے۔ سعودی عرب کی قیادت والی فوجی اتحاد نے 2 جنوری کو ہوائی حملہ کر یو اے ای حمایت یافتہ ’ایس ٹی سی‘ (ساؤدرن ٹرانزیشنل کونسل) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں کم از کم 20 جنگجوؤں کی ہلاکت سے متعلق تصدیق ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی، جب یو اے ای نے حال ہی میں یمن سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق ہوائی حملہ حضرموت خطہ کے سیون اور الخاصہ علاقوں میں موجود فوجی ٹھکانوں پر کیے گئے۔ ان حملوں میں ایک فوجی اڈہ اور ہوائی اڈہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے علاقہ میں ہوائی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئیں۔ کئی گھنٹوں تک کسی بھی طیارہ کی آمد و رفت نہیں ہو سکی، جس سے عام شہریوں میں بھی خوف کا ماحول بن گیا۔ ایس ٹی سی سے منسلک افسران نے کہا کہ مارے گئے سبھی لوگ ان کے جنگجو تھے، جو ان فوجی ٹھکانوں پر تعینات تھے۔ یہ پہلی بار ہے جب حالیہ مہینوں میں براہ راست ایس ٹی سی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان ہوائی حملوں سے قبل یو اے ای نے اعلان کیا تھا کہ اس نے یمن سے اپنی آخری فوجی ٹکڑی بھی واپس بلا لی ہے۔ ابوظبی نے واضح کیا کہ وہ علاقہ میں کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے مکلا بندرگاہ پر ہوئے حملہ سے متعلق تنازعہ بھی سامنے آیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اسلحوں کے ذخیرہ کو نشانہ بنایا گیا۔ یو اے ای نے ان الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف گاڑیوں کا ذخیرہ تھا۔
اس درمیان ایس ٹی سی لیڈران نے سعودی حامی افواج پر بھروسہ توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی ٹھکانوں کو پرامن طریقے سے اپنے کنٹرول میں لینے کی بات کہی گئی تھی، لیکن اس کے فوراً بعد ہوائی حملے کر دیے گئے۔ ایس ٹی سی ترجمان نے اسے وجود کی جنگ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ کٹرپسندی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔
دوسری طرف حضرموت علاقہ کے سعودی حامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مہم کسی سیاسی یا سماجی گروپ کے خلاف نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد فوجی ٹھکانوں پر قبضہ کرنا ہے۔ سعودی فوجی ذرائع نے متنبہ بھی کیا ہے کہ اگر ایس ٹی سی نے اپنے جنگجو واپس نہیں ہٹائے تو حملے جاری رہ سکتے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔