استنبول میں اسرائیلی سفارت خانہ کے قریب فائرنگ، 3 افراد جاں بحق، 2 پولیس اہلکار زخمی

این ٹی وی اور سی این این ترکی کے مطابق ہلاک تینوں افراد حملہ آور تھے، جنھیں ترکیے کے سیکورٹی اہلکاروں نے گولی ماری۔ ایک ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو بندوق نکالتے اور گولی باری سے بچتے دیکھا گیا ہے۔

فائرنگ، علامتی تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

ترکیے کی راجدھانی استنبول میں شدید گولی باری کا واقعہ پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فائرنگ اسرائیلی سفارت خانہ کے قریب ہوئی ہے، جس میں کم از کم 3 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی سفارتخانہ استنبول کے بیسکٹاس علاقہ میں موجود ہے، جہاں فائرنگ واقعہ کے بعد افرا تفری مچ گئی۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ ہدف سفارت خانہ کو بنایا گیا تھا یا نشانہ کچھ اور تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفارت خانہ کم از کم 2 سالوں سے بند ہے۔ یہاں تقریباً 10 منٹ تک فائرنگ ہوئی۔ اس واقعہ میں 2 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دراصل پولیس نے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، جس کی وجہ سے دونوں طرف سے فائرنگ دیکھنے کو ملی۔ ترکیے کے این ٹی وی اور سی این این ترکی کا کہنا ہے کہ ہلاک تینوں افراد حملہ آور تھے۔ ایک دیگر حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار حملہ آور گولی باری میں زخمی ہو چکا ہے۔


اس واقعہ سے متعلق خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں ایک پولیس افسر کو اپنی بندوق نکالتے اور گولی باری سے بچتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک شخص خون سے شرابور بھی دکھائی دے رہا ہے۔ سی این این ترکی نے اس معاملہ میں بتایا کہ حملہ آور سفارت خانہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی وہ عمارت کے قریب پہنچے، پولیس نے انھیں رکنے کے لیے کہا۔ اس کے بعد پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ شروع ہو گئی۔

ترکیے کے وزیر داخلہ مصطفیٰ چفتچی نے تصادم میں 3 حملہ آوروں کی ہلاکت سے متعلق تصدیق کر دی ہے۔ مصطفیٰ نے بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت بھی ہو گئی ہے۔ ان میں سے ایک کا تعلق مذہبی تنظیم سے تھا اور 2 حملہ آور آپس میں بھائی تھے، جن میں سے ایک کا ڈرگز سے جڑا ریکارڈ بھی تھا۔ این ٹی وی کے مطابق حملہ آوروں کے پاس لمبی بندوقیں، کثیر مقدار میں گولہ بارود اور بیگ تھے۔