امریکہ: سابق صدور اوبامہ، بش اور کلنٹن نے تشدد کے لیے ڈونالڈ ٹرمپ کو ٹھہرایا ذمہ دار

امریکہ کے سابق صدور اوباما، بش اور کلنٹن نے کیپٹل بلڈنگ میں تشدد بھڑکانے کے لیے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر تلخ حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے لیے انتہائی بے عزتی اور شرمندگی کا لمحہ ہے۔

تصویر گیٹی ایمج
تصویر گیٹی ایمج
user

ونے کمار

یو ایس کیپٹل پر ہوئے تشدد کو لے کر امریکہ کے کئی سابق صدور کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ سابق صدر براک اوباما، جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

براک اوباما نے کہا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے انتخابی نتائج کے بارے میں لگاتار جھوٹ بولا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے ہی واشنگٹن میں کیپٹل بلڈنگ میں تشدد کو بھڑکایا۔ اوباما نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پرتشدد واقعہ کو یاد رکھا جائے گا، جسے موجودہ صدر کے ذریعہ اکسایا گیا ہے، جو قانونی طریقے سے ہوئے انتخاب کے نتائج کو لے کر بے بنیاد جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہ ہمارے ملک کے لیے بے عزتی اور شرمندگی کی بات ہے۔

امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اس تعلق سے کہا کہ وہ اور ان کی بیوی (ہلیری کلنٹن) نے پورے واقعہ کو دیکھا۔ انھوں نے کہا ’’یہ سب دل توڑنے والا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کیسے کسی ’بنانا ریپبلک‘ (کمزور جمہوریت) میں انتخابی نتائج کو متنازعہ بنا دیا جاتا ہے، ہماری جمہوریت میں نہیں۔ انتخاب کے بعد سے ہی کچھ لیڈروں کے غیر اخلاقی سلوک، ہمارے اداروں، ہماری روایتوں اور قانون نافذ کرنے والی ہماری ایجنسیوں کے تئیں بے عزتی کے جذبہ سے میں حیران ہوں۔‘‘

سابق صدر بل کلنٹن نے کیپٹل بلڈنگ میں ہوئے تشدد کو ناقابل یقین واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ’’یہ ہمارے آئین، ہمارے ملک، ہماری پارلیمنٹ پر حملہ ہے۔ گزشتہ کچھ وقت سے چلائی گئی جھوٹ کی مہم سے آج یہ دن دیکھنے کو ملا ہے۔ ہمیں یقینی طور پر آج کے تشدد کو بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا اور اپنے آئین کی عزت کرنی چاہیے۔‘‘

سابق وزیر خارجہ اور بل کلنٹن کی بیوی ہیلری کلنٹن کا بھی بیان اس تشدد کے تعلق سے سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملک کے ’دہشت گردوں‘ نے امریکہ کی جمہوریت پر حملہ کیا اور اقتدار کی پرامن منتقلی کے عمل کو رخنہ انداز کیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں پھر سے قانون کا راج قائم کرنا ہوگا اور انھیں جوابدہ بنانا ہوگا۔ جمہوریت حساس ہے۔ ہمارے لیڈروں کو اس کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری لینی ہوگی۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next