قطر کی کوششیں ناکام، ایران اور امریکہ اپنی اپنی شرطوں پر بضد، بات چیت رہی بے نتیجہ
اعلی سطحی میٹنگ میں دونوں ممالک کے درمیان کسی محاذ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ میٹنگ سے وابستہ اہم تین ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین اپنی اپنی ضد پر قائم رہے اور کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہے۔

امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قطر کی ثالثی ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس ہفتے اعلی سطحی میٹنگ میں دونوں ممالک کے درمیان کسی محاذ پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ میٹنگ سے وابستہ اہم تین ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین اپنی اپنی ضد پر قائم رہے اور کوئی بھی جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین جاری اختلافات کی وجہ سے ایک بار پھر جنگ تیز ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ امریکی افسران کا ماننا ہے کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخاب کے بعد بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا حکم دے سکتے ہیں۔ حالانکہ اس ناکامی کے باوجود قطر نے اپنی کوششیں پوری طرح بند نہیں کی ہیں، لیکن فریقین کے ضدی رویے کی وجہ سے قطری ثالث بھی مایوس ہو رہے ہیں۔
پیر کے روز قطر کے اہم ثالث علی الثوادی نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کی پوری ٹیم کے ساتھ کئی گھنٹوں تک طویل مذاکرات کیا۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران قطر کی جانب سے پیش کیے گئے دو صفحات پر مشتمل معاہدے کی تجویز پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس کا مقصد ایران کے اس مطالبے کا حل تلاش کرنا تھا، جس میں وہ امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں امریکہ کا وہ مطالبہ بھی شامل تھا، جس میں ایران سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
پیر کی شام علی الثوادی واشنگٹن پہنچے، جہاں انہوں نے ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر اور دیگر امریکی حکام کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات کے ایک مختصر حصے میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شامل ہوئے تھے۔ حالانکہ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر کی صبح وائٹ ہاؤس پورے عمل کے تعلق سے مثبت تھا۔ امریکی افسران نے ایکسیوس سمیت کئی میڈیا اداروں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ بات چیت انتہائی مثبت اور تخلیقی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ ایران نے جوہری معاملات پر مناسب رویہ اختیار کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے مناسب قدم اٹھاتا ہے، تو ٹرمپ پابندیوں کو ہٹانے اور ایران کے منجمد کیے گئے فنڈ کو جاری کرنے کے لیے تیار ہے۔
لیکن کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرکے وضاحت کردی کہ انہوں نے ایران کو کوئی بھی آفر نہیں دیا ہے۔ اس پوسٹ کی وجہ سے مذاکرات کا رخ تبدیل ہو گیا۔ اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ہونے والے اس مذاکرے میں کوئی بھی بامعنی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایرانی فریق ایسے مطالبے کر رہے ہیں، جسے امریکہ کبھی قبول نہیں کر سکتا، جبکہ امریکہ کو لگتا ہے کہ وہ جنگ جیت رہا ہے، اس لیے اسے کسی بھی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس دوران پاکستان اور مصر سمیت خطے کے دیگر ثالث ممالک نے بھی ایران پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے جوہری پروگراموں میں کچھ رعایتیں دے۔ حالانکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس پر تب ہی غور کرے گا، جب امریکہ گزشتہ برس جون کے ’ایم او یو‘ پر رضامند ہوگا۔
ایران کی ’سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل‘ کے سکریٹری محسن رضائی نے منگل کے روز ایرانی پریس سے بات چیت میں کہا کہ ایران نے اپنی شرائط امریکہ تک پہنچا دی ہیں، لیکن ٹرمپ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قاصر ہیں۔ رضائی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ایسے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں وہ نہ تو ٹھیک سے بات چیت کر پا رہے ہیں اور نہ ہی جنگ لڑنے کی حالت میں ہیں۔ ادھر ٹرمپ نے منگل کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران بہت خراب حالت میں ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ ایران ابھی ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیار ڈال دیں گے۔ یہ سب ایک جوہری ہتھیار کو روکنے کے لیے ہے اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ایسے میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارت کاری کا راستہ انتہائی مشکل ہونے والا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
