کورونا کا اب بچوں پر قہر، امریکہ میں داخل اسپتال ہونے کی شرح میں 4 گنا اضافہ

نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19 سے متاثرہ بچوں کے اسپتالوں میں داخل ہونے کی شرح بڑھ گئی ہے۔

علامتی تصویر یو این آئی
علامتی تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کا اومیکرون ویریئنٹ اب بچوں پر قہر برپا کرنے لگا ہے۔ دنیا بھر میں دہشت کا ماحول ہے۔ امریکہ میں اس کا اثر دکھائی دینے لگا ہے۔ نیویارک میں بچوں کے اسپتال میں داخل ہونے کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ محکمہ صحت کے افسران کے مطابق اومیکرون کے معاملوں میں اضافہ کے ساتھ اسپتال میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد میں تیزی آئی ہے۔

نیویارک اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ-19 سے جڑے بچوں کے اسپتالوں میں نئے مریضوں کا داخلہ ہونے میں تیزی آئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیویارک شہر میں 18 سال تک کے بچوں کے اسپتال میں داخل ہونے کی شرح چار گنا بڑھ گئی ہے۔ یہ تیزی 5 دسمبر سے شروع ہوئے ہفتے اور موجودہ ہفتے کے درمیان آئی۔ محکمہ کے مطابق اسپتال میں داخل ہوئے بچوں میں تقریباً نصف 5 سال سے کم عمر کے ہیں۔ یہ عمر فی الحال ویکسین کے لیے نااہل ہیں۔


جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے معاملے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 7 دنوں میں روزانہ اوسطاً تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار نئے معاملے سامنے آ رہے ہیں جو کہ فکر کی بات ہے۔ تہوار کے سیزن، جس میں لوگ اپنے کنبہ سے ملتے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں، کے ساتھ نئے اومیکرون ویریئنٹ نے امریکہ میں ٹیسٹنگ کے لیے بھیڑ بڑھا دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔