’تقسیم کی سیاست کو عوام نے مسترد کردیا‘، وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست پر براک اوباما کا رد عمل

براک اوباما نے کہا کہ ووٹر ایسی سیاست چاہتے ہیں، جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد کرے۔ عوام ایسے رہنماؤں کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو روزمرہ کے مسائل کا ٹھوس حل پیش کر سکیں۔

<div class="paragraphs"><p>سابق امریکی صدر براک اوبامہ</p></div>
i

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کو سابق صدر براک اوباما نے امریکی عوام کا واضح پیغام قرار دیا ہے۔ اوباما نے کہا کہ ووٹر ایسی سیاست چاہتے ہیں، جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں متحد کرے۔ عوام ایسے رہنماؤں کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو ان کے روزمرہ کے مسائل کا ٹھوس حل پیش کر سکیں۔ منگل کی رات انتخابی نتائج کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں اوباما نے کہا کہ ان نتائج سے واضح ہے کہ امریکی عوام سیاست میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

اوباما نے انتخابات میں مختلف علاقوں سے میدان میں اترنے والے امیدواروں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر خطے میں اچھے امیدواروں کے سامنے آنے کی وجہ سے ہی یہ نتائج ممکن ہو سکے۔ ان میں وہ علاقے بھی شامل تھے، جہاں پہلے ڈیموکریٹک امیدواروں کے لیے جیت حاصل کرنا مشکل سمجھا جاتا تھا۔ اوباما کے مطابق ان امیدواروں کا پس منظر مختلف تھا اور ان کے سیاسی نظریات میں بھی فرق تھا، لیکن وہ مشترکہ اقدار، عوامی خدمت پر یقین اور اپنے حلقے کے لوگوں کو ترجیح دینے کی سوچ سے وابستہ تھے۔


سابق صدر نے انتخابی عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرانے والے ہزاروں انتخابی عہدیداروں اور رضاکاروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں اور رضاکاروں نے انتخابات کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون دیا۔ اوباما نے اسے جمہوریت کے اہم ترین کاموں میں سے ایک قرار دیا۔ اوباما نے مزید کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے پاس ابھی 2 سال باقی ہیں۔ ایسے میں اب ان کی پارٹی اور اتحادیوں کو کمر کس کر کام کرنا ہوگا۔ جہاں بھی تبدیلی لانے کی طاقت ہے، وہاں تبدیلی لانی ہوگی، آئندہ ہونے والے نقصانات کو روکنا ہوگا اور مستقبل کی تیاری کرنی ہوگی۔

براک اوباما کا یہ بیان وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی اہم نشستوں پر شکست کے بعد آیا ہے، اور ڈیموکریٹک پارٹی مضبوط ہوئی ہے۔ براک اوباما نے انتخابی نتائج کو صرف امیدواروں کی جیت ہار کے طور پر نہیں، بلکہ اسے امریکی ووٹروں کی سیاسی ترجیحات کے اشارے کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق عوام اب ٹکراؤ اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دینے والی سیاست اور مسائل کا حل پیش کرنے والی قیادت کی توقع کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔