وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو شکست کا خوف، کسانوں کے لیے 1.3 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا کیا اعلان
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت نے کسانوں کے لیے 15 ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد ڈیزل اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان کسانوں کو راحت دینا ہے۔

امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے 2 دنوں قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت نے کسانوں کے لیے 15 ارب ڈالر (تقریباً 1.3 لاکھ کروڑ روپے) سے زائد کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مقصد ڈیزل اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان کسانوں کو راحت دینا ہے۔ ان قیمتوں میں اضافے کی وجہ ٹرمپ کے ٹیرف اور ایران جنگ کو بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابات سے قبل ٹرمپ کی توجہ دیہی علاقوں پر بڑھ گئی ہے۔ وہ اتوار کے روز آئیووا اور کنساس کے دورے پر گئے۔ ان دونوں ریاستوں میں اس بار انتخابی مقابلہ سخت تصور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ کسانوں کے لیے کیے گئے ان اعلانات سے دیہی علاقوں کے ووٹر ٹرمپ کی پارٹی کی کتنی حمایت کریں گے۔
امریکی محکمۂ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے مطابق 15 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد میں سب سے بڑا حصہ 8 ارب ڈالر کا ہے۔ یہ رقم ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان کسانوں کو ایک بار دیا جائے گا۔ حالانکہ یہ رقم کب ملے گی اور کسے کتنی رقم ملے گی، اس کی مکمل اطلاع فی الحال نہیں دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مویشی پروروں اور ماہی گیروں کو 5 ارب ڈالر سے زیادہ قرض کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ حکومت کے تحفظ کی اسکیموں میں شامل کسانوں اور زمینداروں کو 1.8 ارب ڈالر ملیں گے۔ کھاد بنانے والے منصوبوں کے لیے 573 ملین ڈالر اور میٹ پروسیسنگ یونٹ کی توسیع کے لیے 57 ملین ڈالر دیے جائیں گے۔ خصوصاً فصلیں اگانے والے کسانوں کو نئے منصوبوں کے لیے 86.6 ملین ڈالر کی فنڈنگ ملے گی۔
حکومت 472.5 ملین ڈالر تک کی زرعی پیداوار بھی خریدے گی۔ اسے ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 2025 کی فصل کے لیے اہل کسانوں کو 13.8 ارب ڈالر کی علیحدہ امداد فراہم کی جائے گی۔ اس میں مکئی، سویابین، گیہوں اور چاول کی کاشت کرنے والے کسان شامل ہیں۔ اس سال کسانوں کے لیے کھیتی باڑی کرنا مہنگا ہو گیا ہے۔ کھاد، ڈیزل اور زرعی آلات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی جنگ کی وجہ سے امریکی زرعی مصنوعات کی فروخت بھی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی تنظیم اے اے اے کے مطابق جمعہ کے روز ڈیزل کی اوسط قیمت 6.32 ڈالر فی گیلن تھی۔ یہ ایک سال پہلے کے مقابلے 70 فیصد زیادہ ہے۔ 100 گیلن کا ٹینک بھروانے پر اب گزشتہ سال کے مقابلے 260 ڈالر زیادہ خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔
کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے زرعی ماہر گریگ ایبینڈال کا کہنا ہے کہ سرکاری امداد سے کسانوں کے ایندھن پر ہونے والے اضافی اخراجات پورے ہو سکتے ہیں۔ اس سے کھاد کی مہنگائی سے بھی کچھ راحت ملے گی۔ حالانکہ یہ امداد کھیتی باڑی کے تخمینے میں اضافے کے اصل مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ وچیٹا اسٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر الیگزینڈرا مڈل ووڈ کے مطابق کچھ کسان سرکاری امداد سے خوش ہیں، لیکن وہ اسے طویل مدتی راحت نہیں سمجھتے۔ دیہی علاقوں میں مہنگائی اور علاج معالجے کی سہولت بڑے انتخابی مسائل ہیں۔ امیگریشن کے خلاف کارروائی سے کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی کمی ہو سکتی ہے۔ غیر ملکی امداد اور ایس این اے پی غذائی امدادی پروگرام میں کٹوتی سے زرعی مصنوعات کی مانگ بھی کم ہو سکتی ہے۔ ایمپوریہ اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل اسمتھ کے مطابق دیہی علاقوں کے بہت سے ووٹر ٹرمپ کو پسند کرتے ہیں، لیکن ان کی سبھی پالیسیوں سے متفق نہیں ہیں۔ مڈل ووڈ کا کہنا ہے کہ ناراض ووٹرز ضروری نہیں کہ ڈیموکریٹس کو ووٹ دیں۔ کچھ لوگ ووٹ نہیں ڈالیں گے یا آزاد امیدواروں کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں۔ ایسے میں آزاد ووٹرز کا فیصلہ انتخابات میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
