کیپیٹل ہل پر حملہ : ایک پولیس اہلکار اور مشتبہ شخص ہلاک

جنوری میں کیپٹل ہل پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے دھاوا کیا گیا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہونے والے واقعے کو ‘دہشت گردی’ کا واقعہ نہیں کہاجا سکتا ۔

فائل تصویر آئی اے این ایس 
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے کیپیٹل ہل پر حملہ ہوا ہے جس میں ایک پولیس اہلکار اور ایک مشتبہ شخص کے ہلاک ہو نے کی خبر ہے۔

بی بی سی اردو میں شائع خبر کے مطابق واقعے میں عمارت کے پاس لگی سکیورٹی رکاوٹ سے ایک گاڑی جا ٹکرائی جس کے گاڑی سے ایک شخص نکل کر پولیس اہلکاروں کی طرف چاقو لے کر دوڑا۔پولیس اہلکاروں نے حملہ اور پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔

واضح رہے جنوری میں کیپٹل ہل پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے دھاوا کیا گیا تھا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہونے والے واقعے کو 'دہشت گردی' کا واقعہ نہیں کہاجا سکتا ۔

واشنگٹن ڈی سی کے محکمہ پولیس کے قائم مقام سربراہ رابرٹ کونٹی نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ چاہے سکیورٹی حکام کے خلاف تھا یا کسی اور کے بارے میں، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کی پوری تفتیش کریں اور اس کی تہہ تک جائیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل اور ملحقہ علاقے کو پولیس کی جانب سے 'بیرونی حملے کے خطرے' کے پیش نظر بند کر دیا گیا ہے۔کیپٹل پولیس کا کہنا ہے کہ دو افسران پر 'گاڑی دوڑانے' کی اطلاعات کے بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

آج امریکی کانگرس میں وقفے کا دن ہے جس کا مطلب ہے کہ آج قانون سازوں کی اکثریت عمارت میں نہیں ہے۔ جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن آج صبح ہی میری لینڈ کے صدارتی کیمپ ڈیوڈ پر وقت گزارنے کے لیے جا چکے ہیں۔

تاہم اس وقت عمارت کے احاطے اور اس کے ارد گرد چند میڈیا رپورٹرز، عمارت کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ اور کیپٹل ہل کے اہلکار موجود ہونے کا امکان ہے۔ یہ واقعہ چھ جنوری کو سابق صدر ٹرمپ کے حمایتیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے اور ہنگامہ آرائی کے تقریباً تین ماہ بعد پیش آیا ہے۔ (بشکریہ بی بی سی اردو)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔