چین کے ایک اسکول میں ’نورو وائرس‘ کا قہر، 103 بچے ہوئے متاثر، اسکول احاطہ کو کیا گیا سینیٹائز

نورو وائرس کا پہلا بڑا معاملہ 1968 میں امریکہ کے اوہایو واقع نارواک شہر میں سامنے آیا تھا۔ یہ ایک اسکول سے جڑا ہوا معاملہ تھا جہاں کئی لوگ ایک ساتھ بیمار پڑ گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>وائرس کی علامتی تصویر، آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

چین کے شہر وُہان سے شروع ہوئے کووڈ-19 نے 2019 کے دوران پوری دنیا میں تباہی پھیلا دی تھی۔ اب چین کے ایک اسکول میں 100 سے زائد بچے ایک وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں، جس نے سبھی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس وائرس کا نام ’نورو وائرس‘ ہے، جو اسکولی طلبا میں تیزی کے ساتھ پھیل چکا ہے۔ جنوبی چین کے گوانگڈونگ واقع فوشان شہر کے ایک سینئر ہائی اسکول میں 103 طلبا نورو وائرس کی زد میں پائے گئے ہیں۔ مقامی طبی افسران نے ہفتہ کے روز جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ کسی طالب علم کی موت نہیں ہوئی ہے، اور نہ ہی کسی کی حالت سنگین ہے۔ لیکن حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ نورو وائرس ایک عام وائرس ہے جس کا اثر پیٹ میں ہوتا ہے۔ یہ وائرس پیٹ کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے، جس سے الٹی اور ڈائریا ہوتا ہے۔ شنگہوئی مڈل اسکول کے طلبا میں اس کی علامتیں دیکھنے کو ملی تھیں، جس کے بعد ان کی جانچ ہوئی۔ ٹیسٹ میں 103 طلبا نورو وائرس سے متاثر پائے گئے۔ اچھی بات یہ ہے کہ سبھی کی حالت مستحکم ہے۔ اسکول احاطہ کو سینیٹائز کر دیا گیا ہے اور طلبا کی صحت پر نگرانی رکھی جا رہی ہے۔


اس معاملہ کی جانچ کے لیے وبا سے متعلق سروے شروع کیا گیا ہے۔ گوانگڈونگ علاقہ کے مرض کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہاں ہر سال اکتوبر سے اگلے سال مارچ تک نورو وائرس پھیلنے کا موسم رہتا ہے۔ یہ نورو وائرس دراصل وائرس کا ایک گروپ ہے، جس میں کافی زیادہ الٹی ہوتی ہے اور دست ہوتے ہیں۔ یہ بیماری یوں تو بہت عام ہے، لیکن صحت کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ وائرس تیزی کے ساتھ ایک سے دوسرے میں پھیلتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 68.5 کروڑ لوگ نورو وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 20 کروڑ بچے شامل ہیں۔ یہ وائرس ہر سال تقریباً 2 لاکھ لوگوں کی ومت کا سبب بھی بنتا ہے، جن میں تقریباً 50 ہزار بچے ہوتے ہیں۔ اس کا اثر خاص طور پر غریب ممالک میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ علاج اور معاشی نقصان ملا کر اس سے دنیا کو تقریباً 60 ارب ڈالر کا خسارہ ہوتا ہے۔ نورو وائرس کا پہلا بڑا معاملہ 1968 میں امریکہ کے اوہایو واقع نارواک شہر میں سامنے آیا تھا۔ یہ ایک اسکول سے جڑا ہوا معاملہ تھا جہاں کئی لوگ ایک ساتھ بیمار پڑ گئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی سائنسدانوں نے اس وائرس پر تحقیق شروع کر دی تھی۔ چونکہ یہ بیماری سب سے پہلے نارواک شہر میں شناخت کی گئی، اس لیے اس وائرس کو ابتدا میں نارواک وائرس کہا گیا۔ بعد میں اسی وائرس کو نورو وائرس کے نام سے جانا جانے لگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔