گزشتہ 75 برسوں میں دوسری بار نہیں دیا جائے گا ادب کا نوبل انعام

نوبل ایوارڈ فراہم کرنے والے ادارے کی رکن کیٹرینا فروسٹیشن کے فرینچ شوہر کلاؤڈ ارنالٹ پر تقریباً 18 خواتین نے جنسی استحصال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

قومی آوازبیورو

اسٹاکہوم: اس سال ادب کے لئے نوبل انعام کا اعلان نہیں کیاجائے گا کیونکہ اس ایوارڈ کو دینے والے ادارے پر ایک سیکس اسکینڈ ل کا سایہ پڑ گیا ہے ۔ در اصل ایوارڈ دینے والے ادارے کی ایک رکن کے شوہر کلاؤڈ ارنالٹ پر جنسی استحصال کا الزام عائد ہواہے، جس کے بعد انہوں نے استعفی دے دیا۔ اب یہ ایوارڈ 2019 میں دیا جائے گا۔ سویڈیش اکیڈمی نے یہ اطلاع اسٹاکہوم میں منعقدہ ایک اجلاس کے بعد دی۔ حالانکہ ادب کے علاوہ دیگر ایوارڈ دیئے جائیں گے۔

نوبل انعام کمیٹی کی رکن اور مشہور مصنفہ کیٹرینا کے فروسٹیشن کے فوٹوگرافر شوہر پر الزام ہے کہ اس نے ایک خاتون کا جنسی استحصال کیا ہے اس سے پریشان ہوکر فروسٹیشن نے فی الحال ایوارڈ کمیٹی کی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے۔

ایوارڈ کمیٹی نے جاری ایک بیان میں کہا ہے ’’ نوبل انعام اکیڈمی کی شبیہ اس تنازعہ سے خراب ہوئی ہے اور لوگوں کا اعتماد کم ہوا ہے جس کی وجہ سے اکیڈمی نے ادب کے لئے نوبل انعام نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ 75 برسوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب یہ ایوارڈ نہیں دیا جا رہا ہے ۔ اس سے قبل 1943 میں دوسری جنگ عظیم کو لے کر یہ ایوارڈ نہیں دیا گیا تھا۔

اکیڈمی کے سکریٹری اینڈرس اولسن نے کہا ’’ہمیں اگلے ایوارڈ کے جیتنے والوں کا اعلان کرنے سے قبل لوگوں کا بھروسہ جیتنا ہوگا اور اس کے لئے کچھ وقت درکار ہے۔ ‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ سال سوشل میڈیا پر چل رہی تحریک ’می ٹو ‘ کے ذریعہ نوبل ایوارڈ فراہم کرنے والے ادارے کی رکن کیٹرینا فروسٹیشن کے فرینچ شوہر کلاؤڈ ارنالٹ پر تقریباً 18 خواتین نے جنسی استحصال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد اس تنازعہ نے طول پکڑ لیا۔