اکیلے پڑتے جا رہے ہیں نیتن یاہو، 48 گھنٹے میں اسرائیل کو امریکہ نے دیے 4 بڑے جھٹکے
ایران جنگ کی شروعات میں اسرائیل اور امریکہ ساتھ تھے، لیکن معاہدے کے دوران امریکہ نے اسے اکیلا چھوڑ دیا۔ دراصل اسرائیل ایران سے کوئی معاہدہ نہیں چاہتا تھا۔

ایسا لگتا ہے جیسے ایران معاہدہ میں الگ تھلگ پڑے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے برے دن شروع ہو گئے ہیں۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں نیتن یاہو کی ٹیم کو 4 بڑے جھٹکے لگے ہیں۔ یہ تمام جھٹکے اسے امریکہ نے دیے ہیں۔ منگل (16 جون) کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کھلے عام کہہ دیا کہ اگر میں نہیں ہوتا تو اسرائیل برباد ہو جاتا۔ ٹرمپ نے اسرائیل کو شام سے بھی کمزور ملک قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حزب اللہ کے خلاف اسرائیل سے بہتر شام لڑ سکتا ہے۔ نیتن یاہو کے لیے ٹرمپ کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اکتوبر 2026 میں اسرائیل میں وزیر اعظم کا انتخاب ہونا طے ہے۔ اب تک نیتن یاہو امریکہ کے بھروسے اس انتخاب میں جیت کی امید کر رہے تھے، لیکن اب وہ مکمل طور پر سائیڈ لائن ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے لگنے والے مسلسل 4 بڑے جھٹکے درج ذیل ہیں:
ایران معاہدے میں امریکہ نے اسرائیل کی شرائط کو شامل نہیں کیا ہے۔ اسرائیل چاہتا تھا کہ ایران معاہدے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کا معاملہ بھی شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی کوشش خلیجی ممالک کو ’ابراہم معاہدے‘ میں شامل کرانے کی بھی تھی، لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔
امریکہ سے معاہدہ کو لے کر جس ایم او یو پر دستخط ہونے ہیں اسرائیل نے اس کی ایک کاپی مانگی تھی، لیکن امریکہ نے اس سے انکار کر دیا ہے۔ اتنا ہی نہیں پیرس میں ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اسرائیل حزب اللہ کے خلاف نہیں لڑ سکتا ہے۔
امریکی میڈیا ’سی این این‘ نے منگل (16 جون) کو ایک رپورٹ کی۔ اس کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن وائٹ ہاؤس نے ابھی انہیں ملنے کا وقت نہیں دیا ہے۔ معاہدے کے بعد انہیں ملنے کا وقت دیا جا سکتا ہے۔
’ہاریتز‘ کے مطابق اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر بین گویر کو امریکہ نے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ امریکہ کے میامی جانا چاہتے تھی، لیکن انہیں آسانی سے خصوصی ویزا نہیں دیا گیا۔ اسے اسرائیل کے لیے بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ کی شروعات میں اسرائیل اور امریکہ ساتھ تھے، لیکن معاہدے کے دوران امریکہ نے اسے اکیلا چھوڑ دیا۔ دراصل اسرائیل ایران سے کوئی معاہدہ نہیں چاہتا تھا۔ دوسری جانب خلیج کے کئی ممالک ایران سے معاہدے کے حق میں تھے، جن میں سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور کویت نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ناٹو کے رکن ملک ترکیہ نے بھی معاہدے کا راستہ اپنانے کی بات کہی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یہ یقین دلایا تھا کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران میں تختہ پلٹ ہو جائے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ اس وجہ سے ٹرمپ نے نیتن یا پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا۔ امریکہ کے اعلیٰ مذاکرات کار اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسرائیل کے خلاف ہیں۔ نیتن یاہو کے الگ تھلگ پڑنے کی یہ بھی ایک اہم وجہ ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
