ایران جنگ: دوست، دوست نہ رہا! ٹرمپ-نیتن یاہو کے درمیان کھنچی تلوار، امریکہ معاہدہ کا خواہاں اور اسرائیل حملے کے لیے بے قرار
مغربی ایشا میں کشیدگی کے دوران ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو ایران کے معاملے پر وہی کریں گے جو واشنگن چاہے گا۔ حالانکہ انہوں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات کو اچھا بتایا۔

ایران جنگ کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات اب سڑک پر آتے نظر آرہے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ایران کے خلاف آگے کی حکمت عملی کو لے کر فون پر تلخ بات چیت ہوئی۔ بتایا جارہا ہے کہ جہاں اسرائیل ایران ہر دوبارہ فوجی حملے چاہتا ہے وہیں امریکہ فی الحال معاہدے اور سفارتی حل کی سمت میں آگے بڑھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق منگل کو صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بات چیت کے بعد نیتن یاہو بے حد ناراض اور بے چین نظر آئے۔ اسرائیلی قیادت کا ماننا ہے کہ ایران کی فوجی طاقت کو پوری طرح کمزور کرنے اور اس کے اہم ڈھانچوں کو تباہ کرنے کے لیے دوبارہ حملے ضروری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کو ایران پر مجوزہ حملوں کو ملتوی کردیا تھا۔ کہا گیا کہ قطر، یو اے ای اور عرب ممالک کی درخواست کے بعد امریکہ نے فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد قطر، پاکستان نے دوسرے علاقائی ثالثی کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر ایک نظر ثانی شدہ امن تجویز تیار کی تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اختلافات کو کم کیا جاسکے۔
بتایا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو ان مذاکرات کو لے کر کافی پریشان ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بات چیت کے ذریعہ ایران پر مناسب دباؤ نہیں بنایا جاسکتا۔ اسی وجہ سے اسرائیلی حکومت کے اندر پھر سے فوجی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ تیز ہوگیا ہے۔ سی این ای کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کے بڑے پیمانے پر حملے کو لے کر کافی حمایت موجود ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کی نرم حکمت علی کے حوالے سے ناراضگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اب سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس جنگ کو مکمل طور پر ختم کریں گے یا پھر کوئی سمجھوتہ ہو گا۔ بعد میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان صورتحال بارڈر لائن پر ہے، یعنی دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ بھی ہو سکتا ہے اور جنگ بھی دوبارہ چھڑ سکتی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو ایران کے معاملے پر وہی کریں گے جو واشنگٹن چاہے گا۔ حالانکہ انہوں نے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات کو اچھا بتایا۔
دریں اثناء ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ نئی امن تجویز کا جائزہ لے رہا ہے لیکن اب تک اس نے اپنے موقف میں کسی طرح کی کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ ایران کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے 14 نکاتی تجویز کی بنیاد پر مذاکرات جاری ہیں۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ میں امریکی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ممالک ایک لیٹر آف انٹینٹ (ارادے کا خط) تیار کر رہے ہیں۔ اس دستاویز پر امریکہ اور ایران دونوں دستخط کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد 30 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو گا جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
