نیپال: نئی حکومت کی تشکیل کے 26 روز بعد ہی وزیر داخلہ نے دیا استعفیٰ، بدعنوانی کا لگا تھا الزام

سڈان گرنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’’مفادات کے ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے میں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحقیقات کے بعد میں اپنے مستقبل کے متعلق کوئی فیصلہ لوں گا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>بالین شاہ ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نیپال میں نئی حکومت کی تشکیل کے 26 روز بعد ہی وزیر داخلہ سڈان گرنگ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اسے بالین شاہ حکومت کے لیے بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ استعفیٰ دیتے ہوئے سڈان گرنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا کہ ’’مفادات کے ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے میں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحقیقات کے بعد میں اپنے مستقبل کے متعلق کوئی فیصلہ لوں گا۔‘‘ سڈان کو بالین شاہ کا قریبی مانا جاتا ہے۔ ستمبر 2025 میں کے پی اولی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں گرنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

نیپالی اخبار ’ای-کانتیپور‘ کے مطابق گرنگ کا نام نیپال کے متنازعہ کاروباری دیپک بھٹ کے ساتھ جڑ گیا تھا، جس کے بعد ان پر سوال اٹھنے لگے تھے۔ بھٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات چل رہی ہے۔ سیاست میں آنے سے قبل سڈان گرنگ ’ہامی نیپال‘ نامی سماجی تنظیم کے سربراہ تھے۔ کانتیپور کے مطابق اس تنظیم کو فروری 2025 میں دیپک بھٹ سے وابستہ کمپنیوں کے کھاتے سے 5 کروڑ روپے ملے تھے۔ چونکہ بھٹ اس وقت منی لانڈرنگ کی زد میں ہے۔ اس انکشاف کے بعد نیپال کی سیاست میں بھونچال آ گیا۔ پارٹی کے اندر بھی گرنگ پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بڑھ گیا، کیونکہ گرنگ کی پارٹی نیپال میں تبدیلی کے نام پر ہی اقتدار میں آئی ہے۔ 2 دن تک جاری رہنے والے اندرونی خلفشار کے بعد گرنگ نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے تحقیقات جاری رہنے تک کوئی بھی عہدہ نہ لینے کی بات کہی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ وزارت داخلہ کی کرسی سنبھالتے ہی گرنگ نے نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو گرفتار کرایا تھا۔ دونوں پر ستمبر 2025 میں طلبہ تحریک کو کچلنے کا الزام لگا تھا۔ نیپال کی سیاست میں ان دونوں کی گرفتاری کو کافی اہم مانا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سڈان گرنگ کو بالین شاہ اور روی لمیچھانے کا قریبی لیڈر مانا جاتا ہے۔ حالانکہ جس طرح وہ مصیبت میں پھنسے تھے، اس میں کسی نے ان کا بچاؤ نہیں کیا۔