نیپال میں پھر بھونچال، وزیراعظم بنتے ہی بالین شاہ ایکشن میں، سابق وزیر اعظم، وزیرداخلہ سمیت کئی اعلیٰ رہنما گرفتار

نیپال میں سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ کو نیپال میں ’جین زیڈ‘ مظاہروں کے سلسلے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان مظاہروں میں 77 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ اولی کو چین نواز سمجھا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بالین شاہ ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کھٹمنڈو: نیپال میں نئی حکومت کی تشکیل کے چند منٹ بعد ہی بڑا سیاسی بھونچال آگیا ہے۔ پولیس نے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور نیپالی کانگریس کے سینئر رہنما اورسابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں اعلیٰ رہنماؤں پر ستمبر میں ’جین زیڈ‘ احتجاج کو دبانے سے متعلق مجرمانہ غفلت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بالین شاہ کے جمعہ کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلی بڑی کارروائی ہے۔ کے پی اولی کی گرفتاری چین کے لیے بھی پریشان کن ہے کیونکہ اولی کا جھکاؤ ہمیشہ چین کی طرف رہا ہے۔

یہ کارروائی بالین شاہ کے جمعہ کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے کے ٹھیک ایک دن بعد ہوئی ہے۔ تاہم بالین شاہ کے اقتدار میں آنے سے پہلے ہی ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔ یہ گرفتاری پہلے ہی وزارت داخلہ کی طرف سے درج کرائی گئی ایک باضابطہ شکایت کے بعد کی گئی ہے۔ اس شکایت کی بنیاد پر تفتیش شروع کی گئی اور بعد ازاں عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اسپیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے کی گئی۔


’کھٹمنڈو پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کمیشن خصوصی عدالت کے سابق جج گوری بہادر کارکی کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اپنی رپورٹ میں کمیشن نے اولی، رمیش لیکھک اور اس وقت کے پولیس سربراہ چندر کبیر کھاپونگ کے خلاف قومی تعزیرات ہند کی دفعہ 181 اور 182 کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی۔ ان دفعات کے تحت قصوروارٹھہرائے جانے پر زیادہ سے زیادہ 10 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

یادرہے کہ ستمبر 2025 میں’جین زیڈ‘ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ یہ مظاہرے بعد میں پرتشدد ہو گئے جس کے نتیجے میں 77 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد نوجوان اس قدر مشتعل ہوئے کہ انہوں نے پوری حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ وزراء کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالنا پڑا، پارلیمنٹ کو جلایا گیا، سرکاری اور نجی املاک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔


گرفتاریوں سے قبل حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مسلسل میٹنگوں کا سلسلہ جمعہ کی رات گئے تک جاری رہا۔ وزیر داخلہ سودن گرونگ نے سیکورٹی سربراہوں کے ساتھ وسیع تبادلہ خیال کیا۔ سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون بھی پولیس ہیڈ کوارٹرز پہنچے تھے جہاں مزید کارروائی کی حتمی منظوری دی گئی۔ بالین شاہ کی قیادت والی حکومت نے جمعہ کو کابینہ کے اجلاس میں کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی وقت ان ہائی پروفائل گرفتاریوں کا راستہ واضح ہوگیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔