نیپال سیلاب: چتون میں دردناک نظارہ، 229 نامعلوم لاشوں کی اجتماعی تدفین، سبھی کے ڈی این اے سیمپل محفوظ

لاشوں کی اجتماعی تدفین کا فیصلہ لیتے وقت کمیٹی کے اعلیٰ افسران نے طے کیا کہ دفن کرنے سے پہلے ہر لاش کا ڈی این اے سیمپل لیا جائے گا اور ہر لاش اور انسانی باقیات کو ایک الگ منفرد کوڈ دیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>نیپال کے چتون ضلع میں بھوٹے کوشی ندی کی تباہی کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/airnewsalerts">@airnewsalerts</a></p></div>
i

نیپال میں خوفناک سیلاب نے سینکڑوں زندگیاں ختم کر دی ہیں۔ چتون ضلع میں اس تباہی کا خوفناک منظر دیکھنے کو ملا ہے، جہاں سیلاب کے 4 دنوں بعد انتظامیہ نے ایک سخت فیصلہ لیا ہے۔ یہاں بھوٹے کوشی ندی سے اب تک 233 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، لیکن ان میں سے صرف 4 لاشوں کی ہی شناخت ہو پائی ہے۔ باقی 229 نامعلوم لاشوں کو آج سے دیوگھاٹ میں مقررہ مقام پر اجتماعی طور پر دفن کیا جائے گا۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاشوں کی تدفین کا عمل شروع بھی ہو چکا ہے۔ لاشوں کی اجتماعی تدفین کا فیصلہ چتون ضلعی سلامتی کمیٹی نے ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد لیا ہے، کیونکہ لاشیں تیزی سے گلنے سڑنے لگی تھیں اور اس سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔

لاشوں کی اجتماعی تدفین کا فیصلہ لیتے وقت کمیٹی کے اعلیٰ افسران نے طے کیا کہ دفن کرنے سے پہلے ہر لاش کا ڈی این اے سیمپل لیا جائے گا اور ہر لاش اور انسانی باقیات کو ایک الگ منفرد کوڈ دیا جائے گا۔ ان سب کی مکمل معلومات اور ڈی این اے ریکارڈ حکومت محفوظ رکھے گی تاکہ مستقبل میں کسی خاندان کی جانب سے دعویٰ کیے جانے پر درست شناخت کی جا سکے۔


اس درمیان چتون ضلعی انتظامیہ کے دفتر نے لوگوں سے ایک اہم اپیل بھی کی ہے۔ انتظامیہ نے کہا ہے کہ رسوا میں بھوٹے کوشی ندی کے سیلاب میں جان گنوانے والے لوگوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا یا کسی بھی مواصلاتی ذریعے پر پوسٹ نہ کی جائیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر مہلوکین کے اہل خانہ کو گہرا ذہنی صدمہ پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مہلوکین کے احترام اور انسانی حساسیت کا خیال رکھیں اور سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کریں۔

یہ پورا معاملہ نیپال میں بدھ کو آنے والے بھیانک سیلاب سے جڑا ہے، جس نے پورے ملک میں تباہی مچا دی۔ اس آفت میں اب تک مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 675 ہو گئی ہے۔ سیلاب کے تیز بہاؤ میں کئی گھر، گاڑیاں، سڑکیں اور پل پوری طرح بہہ گئے، ساتھ ہی کئی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اب تک تقریباً 4500 لوگوں کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے، لیکن اب بھی 3000 سے زیادہ لوگ لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیمیں مسلسل لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔