نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد 675 پہنچی، 4451 لوگوں کا ہوا ریسکیو، تقریباً 3 ہزار افراد اب بھی لاپتہ
وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کا واحد ذریعہ فی الحال ہیلی کاپٹر ہے۔ بعض مقامات کا زمینی حصہ ’دلدلی زمین‘ میں تبدیل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں ہیلی کاپٹر بھی نہیں اتارے جا سکتے۔

نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور 4 دن گزرنے کے بعد بھی ملبوں سے لاشیں نکلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ نیپال پولیس کے مطابق 29 اگست تک سیلاب اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے کم از کم 675 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل تبت کی جانب 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ سیلاب کے بعد چوتھے روز بھی خوف و دہشت کے درمیان تلاش، راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔
اس درمیان نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے کہا کہ ملک کی فوری ترجیح لاپتہ افراد کا پتہ لگانا اور انہیں فوری راحت فراہم کرنا ہے۔ ایک پریس بریفنگ میں وزیر خارجہ نے بتایا کہ اب تک 4451 افراد کو بچایا جا چکا ہے، جن میں 187 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ دوبارہ سیلاب آنے کے امکانات اور بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش نظر کھنال نے کہا کہ خطرے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور پورا علاقہ ’ہائی الرٹ‘ پر ہے۔
شیشیر کھنال کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کا واحد ذریعہ فی الحال ہیلی کاپٹر ہے۔ بعض مقامات کا زمینی حصہ ’دلدلی زمین‘ میں تبدیل ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں ہیلی کاپٹر بھی نہیں اتارے جا سکتے۔ ایسے میں متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے اور پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے میں ریسکیو ٹیموں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
نیپال کے وزیر خزانہ سوارنم واگلے نے سیلاب سے ہوئی تباہی کے بعد تعمیر نو کے کاموں میں خاطر خواہ رقم خرچ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس تباہ کن سیلاب کے بعد سرحدی علاقوں کی تعمیر نو کے لیے ملک کو 4 سے 5 ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ یہ صرف ایک ابتدائی تخمینہ ہے اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ ابھی جاری ہے۔ دریں اثنا، وزیر اعظم کے ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ کے لیے جمعہ کی رات تک 2.295 ارب روپے سے زیادہ کی رقم جمع کی جا چکی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یہ رقم 10 مختلف کمرشیل بینکوں میں موجود کھاتوں میں جمع کرائی گئی ہے۔ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کا مکمل اندازہ لگانے کا کام بھی جاری ہے۔ بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پلوں اور دیگر ضروری سہولیات کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
نیپال کی وزارت خارجہ کے مطابق ہفتہ کو 120 ہندوستانی شہری چین سے نیپال پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی نیپال میں ہندوستانی شہریوں سے متعلق راحت اور بچاؤ کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ سرحدی علاقے میں سیلاب کے باعث متعدد افراد کے رابطے منقطع ہونے اور مختلف مقامات پر پھنس جانے کی اطلاعات کے بعد ریسکیو ٹیمیں مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں خوراک، پانی اور دیگر ضروری امداد فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ نیپال اور چین سے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد تقریباً 3 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی رابطے اور آمدورفت کے ذرائع متاثر ہونے کے باعث لاپتہ افراد کی درست تعداد کا تعین ابھی نہیں ہو سکا ہے۔
نیپالی حکام کے مطابق تلاش اور راحت کا کام چوتھے روز بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ان علاقوں پر خاص توجہ دے رہی ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کے پھنسے ہونے یا لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ خراب جغرافیائی حالات اور دلدلی زمین کے باعث کئی علاقوں تک زمینی راستے سے پہنچنا ممکن نہیں، جس کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ حکام نے دوبارہ سیلاب آنے کے خدشے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ پورے خطے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی نئی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر راحت اور بچاؤ کی کارروائی شروع کی جا سکے۔
