’نہ دھمکیاں کام آئیں گی نہ رشوت، ہرمز ہمارا ایٹم بم ہے‘، ایرانی وزیر خارجہ کا امریکہ کو پیغام
وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’’جنگ کے آغاز کے دنوں میں صورتحال اس قدر خراب تھی کہ حکومت اور فوج کے اعلی حکام کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔ تمام مواصلاتی نظام متاثر تھے۔ ہم خوف زدہ تھے۔‘‘

امریکہ اور ایران کے درمیان شدید جنگ جاری ہے۔ کشیدگی والے حالات میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں بے حد جارحانہ اور اہم بیان دیا ہے۔ عباس عراقچی نے واشنگٹن اور تل ابیب کو کہا کہ ’’مغربی ممالک ایران کو نہ تو دھمکی دے سکتے ہیں اور نہ ہی رشوت دے سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ اس جنگ نے پوری دنیا کو یہ احساس کرا دیا ہے کہ ایران کا اصل ’ایٹم بم‘ آبنائے ہرمز ہے، جس پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے۔ یہ انٹرویو ایرانی ڈاکیومنٹری میکر جواد موگوئی نے یوٹوب سریز ’دی اسٹوری آف وار‘ کے لیے ریکارڈ کیا ہے، جو کہ اتوار کے روز نشر ہوا۔ انٹرویو میں وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنگ کے شروعاتی دور کی سنگین صورتحال کا جائزہ پیش کیا ہے۔ جب اعلی قیادت مکمل طور پر بکھر گئی تھی۔
وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ’’جنگ کے آغاز کے دنوں میں صورتحال اس قدر خراب تھی کہ حکومت اور فوج کے اعلی حکام کا رابطہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔ تمام مواصلاتی نظام متاثر تھے۔ ہم خوف زدہ تھے اور بس یہ جاننا چاہتے تھے کہ ہمارے کون کون ساتھی زندہ ہیں اور کون مارے جا چکے ہیں۔‘‘ عباس عراقچی نے بتایا کہ ’’جنگ شروع ہونے کے 3 دنوں کے بعد ہم پہلی بار صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کر سکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے دیگر سینئر لیڈران سے ملاقات کی تھی۔ جن میں تجربہ کار لیڈر علی لاریجانی بھی شامل تھے۔ جوکہ بعد میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔‘‘ 12 دنوں تک جاری جنگ سے قبل ہونے والے جنگ بندی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے بڑا انکشاف کیا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ’’کئی بین الاقوامی سفیروں نے بات چیت کے دوران ایران کو ’رشوت‘ دینے اور لالچ دینے کی بھی کوشش کی تھی، تاکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو روک دے۔‘‘ عباس عراقچی نے کہا کہ ’’ایران کی یورینیم کی افزودگی فروخت کے لیے نہیں ہے۔ اس کے لیے ہم نے کئی دہائیوں کی اقتصادی پابندیاں برداشت کیں، اور ہمارے ایٹمی سائنسدانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔‘‘ عباس عراقچی نے ایران کے اندرونی سیاسی بحران اور سخت گیر لوگوں کے ذریعہ خود کو ’غدار‘ کہے جانے کے الزامات کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’شدید جنگ اور جنگ بندی کے باوجود ایران کی پالیسیوں یا اس کے بنیادی اصولوں میں کبھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘‘ عباس عراقچی نے فخریہ لہجے میں کہا کہ ’’ہمارے دوستوں اور دشمنوں دونوں نے مجھ سے اعتراف کیا ہے کہ اس جنگ کے بعد ایران پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر نمایاں ہوا ہے۔‘‘ ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنی فوجی قوت کا احساس دلا دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
