وینزویلا سے تقریباً 50 ملین بیرل تیل براہ راست امریکہ پہنچے گا، ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ ’’وینزویلا کی عبوری حکومت امریکہ کو 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل فروخت کرے گی۔‘‘

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل (6 جنوری) کو وینزویلا کے متعلق ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ ’’وینزویلا کی عبوری حکومت امریکہ کو 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل فروخت کرے گی۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق یہ تیل مارکیٹ قیمت پر ہی امریکہ کو ملے گا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا کنٹرول ان کے پاس رہے گا اور اس رقم کا استعمال دونوں ممالک کے لوگوں کے مفاد میں کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے انرجی سکریٹری کِرس رائت کو اس منصوبے پر فوری عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تیل کو ذخیرہ کرنے والے جہازوں کے ذریعہ براہ راست امریکی اَن لوڈنگ ڈاکس اور بندرگاہوں تک پہنچایا جائے گا۔
دریں اثنا، وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ آئندہ جمعہ کو اوول آفس میں وینزویلا سے متعلق تیل کی تجارت کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ منعقد کی جائے گی۔ اس میٹنگ میں ایکسن، شیوران اور کونوکو فلپس جیسی بڑی امریکی تیل کمپنیوں کے اعلیٰ افسران شامل ہو سکتے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اس میٹنگ میں وینزویلا کے تیل کے سودوں اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ اوسطاً صرف 1 ملین بیرل تیل روزانہ پیدا کرتا ہے۔ اگر امریکہ سے اس کا موازنہ کریں تو گزشتہ سال اکتوبر میں امریکہ اوسطاً روزانہ 13.9 ملین بیرل تیل پیدا کر رہا تھا۔ اگر امریکہ 1 بیرل تیل کو تقریباً 56 ڈالر میں خریدتا ہے تو ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق وینزویلا کا تیل تقریباً 2.8 بلین ڈالر کا ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔