کانگو کے 2 اسکولوں میں لگی خوفناک آگ، 19 طالبات سمیت 26 طلبا جاں بحق، 300 گھر بھی ہوئے خاک!

نرس سیزا جین-بیپٹسٹ نے بتایا کہ ’فوراہا سیکنڈری اسکول‘ اور قریب واقع ’اوجاما پرائمری اسکول‘ میں پڑھنے والے مختلف عمر کے طلبا و طالبات کو ان کی اسکول یونیفارم میں ہی نیامولاگیرا بیڈوم صحت مرکز لایا گیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

مشرقی کانگو کے بوکاوو شہر میں آگ لگنے کا ایک خوفناک واقعہ پیش آیا ہے، جس میں 2 اسکولوں کے ساتھ ساتھ کم و بیش 300 گھر بھی خاک میں مل گئے ہیں۔ یہ واقعہ جمعرات کے روز پیش آیا جس میں کم از کم 26 طلبا کی موت ہو گئی۔ شہر پر کنٹرول رکھنے والے ایک باغی گروپ ’ایم 23‘ کے ترجمان لارنس کانیوکا نے بتایا کہ مرنے والوں میں 19 لڑکیاں اور 7 لڑکے شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 29 دیگر افراد کا مقامی اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ مقامی منتظم موئز لوبالا نے بتایا کہ آگ پہلے ایک گھر میں لگی اور پھر قریب واقع 2 اسکولوں اور دیگر گھروں تک پھیل گئی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی طلبا ’فوراہا سیکنڈری اسکول‘ کے اندر پھنس گئے اور کچھ کی دم گھٹنے سے موت ہو گئی۔ آگ لگنے کی وجوہات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اسپتال کے ایک نرس سیزا جین-بیپٹسٹ نے بتایا کہ ’فوراہا سیکنڈری اسکول‘ اور قریب واقع ’اوجاما پرائمری اسکول‘ میں پڑھنے والے مختلف عمر کے طلبا و طالبات کو ان کی اسکول یونیفارم میں ہی نیامولاگیرا بیڈوم صحت مرکز لایا گیا۔ زخمیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ طبی عملے کے لیے ان کی درست تعداد کا حساب رکھنا مشکل ہو رہا تھا۔


موئز لوبالا نے بتایا کہ اسکول سے باہر نکلنے کا راستہ بہت تنگ تھا۔ کچھ طلبا نے کھڑکیوں سے کودنا شروع کر دیا، جبکہ باقی طلبا دروازے کی طرف بھاگے۔ جیسے ہی سب نے باہر نکلنے کی کوشش کی، طلبا کو دھکے لگے وہ گر گئے اور کچلے گئے۔ آگ لگنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ لوبالا کے مطابق جس محلے میں آگ لگی، وہ گنجان آبادی والا علاقہ ہے۔ اس علاقے کے بیشتر گھر لکڑی کے بنے ہوئے ہیں۔ گنجان آبادی اور لکڑی کے مکانات آگ کے تیزی سے پھیلنے کی ایک ممکنہ وجہ ہو سکتے ہیں۔

ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کی خوفناکی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2 اسکولوں کے ساتھ ساتھ قریب میں موجود 300 لکڑی کے مکانات پوری طرح خاک میں مل گئے۔ اس حادثہ کے سبب سینکڑوں کنبے بے گھر ہو گئے ہیں۔ ایک مقامی طبی افسر اور بچاؤ اہلکار کے حوالہ سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایک مقامی اسپتال کے اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے یہاں 50 سے زائد طلبا کو لایا گیا تھا، جن میں سے 14 بچوں نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ 21 مریضوں کے اب بھی آئی سی یو میں زیر علاج ہونے کی اطلاع بھی انھوں نے دی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔