’کئی نکات کو حتمی شکل دیا جانا ابھی باقی‘، امریکہ-ایران معاہدہ پر دستخط سے عین قبل جے ڈی وینس کا انکشاف

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدہ سے متعلق یہ بیان دے کر سبھی کو حیران کر دیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ میں ابھی کئی اہم نکات پر کام کیا جانا باقی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس / آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر (15 جون) کو مغربی ایشیا میں ایران کے ساتھ جاری تنازعہ کے خاتمہ اور مکمل امن کی بحالی کے لیے ہونے والے معاہدے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ میں امن معاہدے کے میمورینڈم پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے حوالے سے ایک اہم بیان دے کر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے سلسلے میں ابھی کئی اہم نکات پر کام کیا جانا باقی ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان کئی ایسے معاملات ہیں جنہیں ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔

’سی این بی سی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ’’آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ تہران کن معاملات پر رعایت دینے کے لیے تیار ہے۔‘‘ انہوں نے اشارہ دیا کہ مذاکراتی عمل اب بھی جاری ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان کئی اہم پہلوؤں پر گفتگو ہونا باقی ہے۔ اس دوران جب امریکی نائب صدر سے جمعہ (19 جون) کو مجوزہ معاہدے پر دستخط کے لیے منعقد ہونے والی تقریب میں ایران کی جانب سے نمائندگی کے بارے میں سوال کیا گیا، تو وینس نے کہا کہ ہمیں امید ہے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر (محمد باقر قالیباف)، وزیر خارجہ (سید عباس عراقچی) اور دیگر سینئر عہدیدار موجود ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں امید ہے دستخطی تقریب میں ایران کے نمائندوں کا مکمل وفد شریک ہوگا۔‘‘


واضح رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جب ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر اتفاقِ رائے کا اعلان کیا تو انہوں نے آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’’میں آبنائے ہرمز سے امریکی بحریہ کی ناکہ بندی مکمل طور پر ہٹانے اور آبنائے ہرمز میں بغیر کسی ٹول کے آزادانہ بحری آمد و رفت کی اجازت دیتا ہوں۔‘‘ اس معاملے میں فی الحال ایران کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ حالانکہ ’بمکو‘ نے اب بھی آبنائے ہرمز کو خطرناک گزرگاہ بتایا ہے۔ اپنے بیان میں اس نے کہا ہے کہ کچھ معاملے واضح نہیں کیے گئے ہیں، جس سے جہازوں کے لیے اب بھی ہرمز سے گزرنا جوکھم بھرا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔