ایغور مسلمانوں کے ساتھ چین کے ظالمانہ رویہ پر امریکہ کا بڑا قدم، 28 کمپنیاں بلیک لسٹ

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بلیک لسٹ میں ڈالی گئی چین کی کمپنیوں میں سرکاری ایجنسیاں اور سرویلانس سامان بنانے میں مہارت رکھنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا

یو این آئی

واشنگٹن: امریکہ نے چین کے صوبہ شنزيانگ میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ سفاکانہ اور غیر انسانی رویہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی 28 کمپنیوں كو بلیک لسٹ میں ڈال دیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بلیک لسٹ میں ڈالی گئی چین کی کمپنیوں میں سرکاری ایجنسیاں اور سرویلانس سامان بنانے میں مہارت رکھنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اب یہ کمپنیاں امریکہ کی اجازت کے بغیر اس کی مصنوعات کو خرید نے سے اپنی کمپنیوں کو منع کردیا ہے۔

امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ کے بیان کے مطابق بلیک لسٹ میں ڈالی گئی چین کی یہ کمپنیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غلط استعمال کے مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ چین ایغور مسلمانوں کے ساتھ بہت برا سلوک کر رہا ہے۔ ان کے بغیر وجہ بتائے قیدی بنا کر رکھا گیا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ چین ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ صوبہ شنزیانگ میں دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے ووکیشنل تربیتی مراکز چل رہے ہیں اور تشدد جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔

بی بی سی کے مطابق’’میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم استبداد کے معاملہ میں تقریبا تمام مسلم ممالک نے آواز اٹھائی لیکن چین کے ایغور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو لے کر مسلم ممالک کے ’ہیرو‘ سعودی عرب سمیت تمام ممالک نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو لے کر عالمی سطح پر انسانیت کا راگ الاپنے والے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی خاموشی انسانی حقوق کی تنظیموں کو حیران کرتی ہے۔ ایغورمسلمانوں پر ہو رہے مظالم کو لے کر امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا اور یوروپ کے ممالک آواز اٹھاتے رہے ہیں لیکن مسلم ممالک خاموش رہنا ہی ٹھیک سمجھتے ہیں‘‘۔

Published: 8 Oct 2019, 12:06 PM