’جلد از جلد جوہری معاہدہ کرو، ورنہ سنگین نتائج کے لیے تیار رہو‘، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دی وارننگ
ہندوستان کے لیے خلیجی خطے کا استحکام معاشی اور اسٹریجٹک طور پر بہت اہم ہے۔ کیونکہ ہندوستان اپنے خام تیل کا ایک بڑا حصہ مغربی ایشیا سے درآمد کرتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو وراننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد جوہری معاہدہ کرے، ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو حالات بہت دردناک ہو سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’’ہمیں معاہدہ کرنا ہی ہوگا، نہیں تو حالات بہت مشکل اور تکلیف دہ ہو جائیں گے۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن معاہدہ ضروری ہے۔‘‘
جب ڈونالڈ ٹرمپ سے وقت کی حد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ عمل زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آئندہ ایک ماہ کے اندر کوئی فیصلہ ہو جانا چاہیے اور ایران کو جلد ہی متفق ہو جانا چاہیے۔ امریکی صدر نے واضح لفظوں میں کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو کہانی مختلف ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا اگر معاہدہ منصفانہ اور اچھا نہیں ہوگا تو ایران کو بہت مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس میٹنگ کے ایک روز بعد آیا، جو ٹرمپ نے اسرئیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ کی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہماری میٹنگ اچھی رہی اور نیتن یاہو حالت کو سمجھتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ میرے ہاتھ میں ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ وہ بات چیت روک دیں، تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ بات چیت تب تک جاری رکھیں گے جب تک انہیں مناسب لگے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ نہیں ہوا تو ’فیز 2‘ (دوسرا مرحلہ) شروع ہوگا، جو ایران کے لیے بہت مشکل ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ دوسرے مرحلے میں کیا قدم اٹھائی جائیں گے۔
ٹرمپ کے مذکورہ بیانات سے واضح ہے کہ امریکہ ایک طرف بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے، لیکن دوسری جانب ایران پر دباؤ بھی بنا رہا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام مغربی ایشیا میں ایک سنٹرل فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ کی پہلی مدت کار کے دوران امریکہ 2015 کی نیوکلیئر ڈیل سے ہٹ گیا تھا۔ اس کے بعد سے جوہری ایندھن کی افزودگی اور علاقائی سیکورٹی سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان کے لیے خلیجی خطے کا استحکام معاشی اور اسٹریجٹک طور پر بہت اہم ہے۔ ہندوستان اپنے خام تیل کا ایک بڑا حصہ مغربی ایشیا سے درآمد کرتا ہے اور اس خطے میں بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری بھی رہتے ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر تیل بازار اور علاقائی سیکورٹی پر پڑ سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔