کوروناوائرس کی ’دوسری لہر‘ میں نہیں ہو گا لاک ڈاؤن: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’ایک مستقل لاک ڈاؤن صحت مند ریاست یا صحت مند ملک کی حکمت عملی نہیں ہے۔ملک کو بند کرنے کا ہمارا کوئی مطلب نہیں ہے‘‘۔

ڈونالڈ ٹرمپ
ڈونالڈ ٹرمپ
user

یو این آئی

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس (كووڈ -19) کی دوسری لہر کے دوران ملک میں لاک ڈاؤن کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ریاست مشی گن میں فورڈ پروڈکشن پلانٹ کے دورے کے دوران صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے یہ اظہار کیا۔ انھوں نے نے کہا کہ ’’لوگ کہہ رہے ہیں، بہت کم امکان ہے۔ یہ معیاری ہے اور ہم مصیبت سے باہر آ رہے ہیں۔ ہم ملک کو بند نہیں کر رہے ہیں ہم مصیبت سے باہر آرہے ہیں‘‘۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ’’ایک مستقل لاک ڈاؤن صحت مند ریاست یا صحت مند ملک کی حکمت عملی نہیں ہے۔ملک کو بند کرنے کا ہمارا کوئی مطلب نہیں ہے‘‘۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’’کبھی نہ ختم ہونے والا لاک ڈاؤن ایک عوامی صحت کی آفت کو دعو ت دےگا‘‘۔ اپنے لوگوں کی صحت کی حفاظت کے لئے ہمارے پاس ایک کاروباری معیشت ہونی چاہئے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی تمام 50 ریاستوں نے اپنی معیشتوں کو رفتار دینے کے مقصد سےکورونا وائرس لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں نرمی دینے کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ صحت کے ماہرین نے سردی کے موسم میں وائرس کی دوسری لہر آنے کا امکان کو لے کر خبردار کیا ہے۔

امریکہ میں ابھی تک ڈیڑھ لاکھ لوگ اس وبا سے متاثر ہیں اور 90 ہزار افراد کی موت ہو چکی ہے. بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز کے مطابق جون کے آغاز تک ملک میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے۔