کورونا کے نئے ویریئنٹ کی دستک، خطرناک ایسا کہ ویکسین کا بھی نہیں ہوگا اثر!

سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں اب تک ملے ویریئنٹ آف کنسرن اور ویریئنٹ آف انٹریسٹ کے مقابلے میں سی.1.2 میں زیادہ میوٹیشن دیکھنے کو ملا ہے، اتنا ہی نہیں یہ ویریئنٹ زیادہ انفیکشن والا ہو سکتا ہے۔

فائل تصویر / یو این آئی
فائل تصویر / یو این آئی
user

تنویر

کورونا وائرس اور دن بہ دن سامنے آتے اس کے نئے نئے ویریئنٹ نے پوری دنیا کو پریشان کر رکھا ہے۔ دنیا کے سبھی ممالک جلد از جلد اس وائرس پر قابو پانے کے مقصد سے ٹیکہ کاری کی رفتار بھی تیز سے تیز تر کر رہے ہیں، لیکن اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ کورونا کے ایک نئے ویریئنٹ نے دستک دی ہے جس پر ویکسین بھی بے اثر ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کورونا کا یہ خطرناک ویریئنٹ سامنے آیا ہے جو کہ قبل کے دیگر کورونا ویریئنٹ سے زیادہ انفیکشن والا ہے۔

جنوبی افریقہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار کمیونکیبل ڈیزیز (این آئی سی ڈی) اور کواجولو نیٹل ریسرچ اینوویشن اینڈ سیکوینسنگ پلیٹ فارم کے سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ کورونا کا سی.1.2 ویریئنٹ سب سے پہلے مئی میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد اگست تک چین، کانگو، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، پرتگال اور سوئٹزرلینڈ میں اس کے کیس دیکھنے کو ملے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں کورونا کی پہلی لہر کے دوران ملے ویریئنٹ میں سے سی.1 ویریئنٹ کے مقابلے میں سی.1.2 میں زیادہ تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ویریئنٹ کو ’ویریئنٹ آف انٹریسٹ‘ کے درجہ میں رکھا گیا ہے۔


سائنسدانوں کے مطابق دنیا میں اب تک ملے ویریئنٹ آف کنسرن اور ویریئنٹ آف انٹریسٹ کے مقابلے میں سی.1.2 میں زیادہ میوٹیشن دیکھنے کو ملا ہے، اتنا ہی نہیں یہ ویریئنٹ زیادہ انفیکشن والا ہو سکتا ہے، اور یہ کورونا ویکسین سے ملنے والے حفاظتی نظام کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔ اسٹڈی کے مطابق جنوبی افریقہ میں ہر مہینے سی.1.2 جینوم کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مئی میں جینوم سیکوئنسنگ کے 0.2 فیصد سے بڑھ کر جون میں 1.6 فیصد، جولائی میں 2 فیصد تک ہو گئے۔ اسٹڈی کے مطابق اس ویریئنٹ کا میوٹیشن ریٹ سالانہ 41.8 ہے۔ یہ موجودہ گلوبل میوٹیشن ریٹ سے دوگنا تیز ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔