امریکہ-ایران کشیدگی کے اثر سے نہیں بچ پایا دنیا کا ترقی یافتہ ملک جاپان، ایک لاکھ کروڑ کا ہوا نقصان
جاپان اپنی تیل اور گیس کی تقریباً تمام ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ توانائی کے علاوہ، تیل کی قلت ’نیفتھا‘ پر مبنی مصنوعات کی تیاری کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر جہاں پورے مشرق وسطیٰ میں دیکھا جا رہا ہے، وہیں اب اس کا اثر دنیا کے ترقی یافتہ ملک جاپان پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سبب جاپان کا تجارتی خسارہ مالی سال 26-2025 میں 1700 ارب ین (تقریباً ایک لالکھ کروڑ روپے) پر پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے بدھ کو اس کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ مسلسل پانچویں مالی سال میں تجارتی خسارہ درج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ تجارتی خسارہ تو بڑھا ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ اس کے درآمدات و برآمدات کے اعداد و شمار پر بھی اس کا اثر دیکھا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں محض 0.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جاپان اور دیگر ممالک سے درآمدات پر عائد کیے گئے بھاری محصولات عالمی آٹو موبائل مینوفیکچررز اور دیگر صنعتوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں امریکہ کو جاپان کی مجموعی برآمدات میں 6.6 فیصد کمی آئی، جبکہ موٹر گاڑیوں کی برآمدات 16 فیصد تک گر گئیں۔ مارچ میں جاپان کا تجارتی سرپلس ایک سال قبل کے مقابلے میں 26 فیصد بڑھا، جو برآمدی شعبے کے پچھلے نقصانات سے ابھرنے کی علامت ہے۔ مارچ کے دوران برآمدات میں تقریباً 11.7 فیصد اور درآمدات میں قریب 10.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے ٹیرف کا مار جاپان جھیل بھی نہیں پایا تھا کہ ایران کی جنگ نے اس میں ’آگ میں گھی‘ کا کام کر دیا۔ ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات بھی جاپان کے لیے شدید تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ جاپان اپنی تیل اور گیس کی تقریباً تمام ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے۔ توانائی کے علاوہ، تیل کی قلت نیفتھا پر مبنی مصنوعات کی تیاری کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جو طبی آلات اور دیگر پلاسٹک کی اشیاء کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
جاپانی حکومت نے عوام کو یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے پاس ایسی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 254 دن کے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ سپلائی کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت اس ذخیرے سے کچھ حصہ فراہم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جاپان ایشیا کی زیادہ تر تیل و گیس کی سپلائی کے اہم راستے آبنائے ہرمز کا متبادل بھی تلاش کر رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔