جنگ کے سائے میں معیشت: توانائی بحران اور ہندوستان کے لیے بڑھتے خطرات...ارون کمار

مغربی ایشیا کی جنگ نے عالمی توانائی سپلائی کو متاثر کر کے قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ اس کا گہرا اثر ہندوستان کی معیشت، صنعت، زراعت اور روزگار پر پڑ رہا ہے، جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ متوقع ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

ارون کمار

مغربی ایشیا میں جاری جنگ کب ختم ہوگی، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ اس تحریر کے وقت اگرچہ دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد برقرار رہنے کا اندیشہ ہے اور حالات کے بدستور کشیدہ رہنے کی توقع ہے۔ یہاں تک کہ اگر جنگ ختم بھی ہو جائے، تو خلیجی ممالک فوری طور پر اپنی پیداوار نہیں بڑھا سکیں گے کیونکہ حملوں کے دوران ان کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسی لیے جنگ کے خاتمے کے بعد بھی توانائی کی قلت برقرار رہنے کا امکان ہے۔

جہاں تک اس تنازعہ کے ہندوستان پر اثرات کا تعلق ہے، صورت حال دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور کئی صنعتوں کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ کے شعبے پر نظر آ رہا ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے مہاجر مزدوروں کو ایک طرف کھانا پکانے والی گیس دستیاب نہیں ہو رہی، اور اگر مل بھی رہی ہے تو اتنی مہنگی کہ اس کا خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں وہ مجبور ہو کر اپنے دیہات کی طرف لوٹ رہے ہیں، جیسا کہ انہیں کووڈ وبا کے دوران بھی کرنا پڑا تھا۔

جب تک جنگ جاری رہے گی یا جنگ جیسی کیفیت برقرار رہے گی، عالمی توانائی سپلائی پر دباؤ بڑھتا جائے گا۔ چونکہ پیداوار، ترسیل اور استعمال کے ہر مرحلے کے لیے توانائی ناگزیر ہے، اس لیے خام تیل اور گیس کی کمی کا براہ راست اثر پیداوار پر پڑے گا۔ متبادل ذرائع سے سپلائی بڑھانے اور دیگر اقدامات — جیسے کھلے سمندر میں روسی اور ایرانی تیل کی خریداری کی اجازت، اور سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن (پیٹرولائن) کے ذریعے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل — کے باوجود، اس وقت دنیا میں خام تیل اور گیس کی سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔

پائپ لائنوں میں موجود تیل اور اسٹریٹیجک ذخائر محدود مدت تک ہی کام آ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ چونکہ آج دنیا کا انحصار پٹرولیم مصنوعات پر 1970 کی دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اس لیے اس بحران کے اثرات بھی زیادہ شدید ہیں۔


توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب ہے کہ تمام اشیاء مہنگی ہو جائیں گی، کیونکہ ہر شے کی پیداوار اور ترسیل توانائی پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ خام تیل صرف ایندھن ہی نہیں بلکہ کیمیکلز اور دیگر مصنوعات کے لیے بنیادی خام مال بھی ہے۔ اس سے سلفر اور ایل پی جی حاصل ہوتی ہے اور اسے مصنوعی ریشوں، کھاد، پلاسٹک، ادویات، لبریکینٹس اور سڑکوں کے لیے بٹومین بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے خام تیل کی کمی نہ صرف توانائی بلکہ دیگر اشیاء کی قلت کا بھی سبب بنتی ہے، اور اس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اس پر مستزاد سٹہ بازی اور کالا بازاری قیمتوں میں اضافے کو اور تیز کر دیتی ہیں۔

ہندوستان پر اثرات

کھاد کی کمی، آبپاشی اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات زراعت کو متاثر کریں گے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ سب سے زیادہ مزدور طبقے کو متاثر کرے گا۔ ڈیزل کی قلت کا اثر ماہی گیری کے شعبے پر بھی پڑ رہا ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل، پیکیجنگ اور سیرامک ٹائلز کی صنعتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ کھانا پکانے والی گیس کی کمی کے باعث ہوٹل اور ریسٹورنٹ مشکلات کا شکار ہیں، اور اطلاعات کے مطابق کئی بند بھی ہو چکے ہیں۔ اس کا اثر تفریحی صنعت پر بھی پڑ رہا ہے، جو پہلے ہی سفر میں کمی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔

ہندوستان کے لیے صورتحال اس لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ وہ توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہے — خام تیل کی تقریباً 85 فیصد اور ایل این جی کی 50 فیصد ضروریات بیرون ملک سے پوری کی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ صرف مہنگے داموں پر تیل اور گیس خریدنی پڑے گی بلکہ عالمی قلت کے باعث مطلوبہ مقدار بھی دستیاب نہیں ہو سکے گی۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ کسی چیز کی کمی نہیں، لیکن لمبی قطاریں اور مہنگی ریفلنگ اس دعوے پر سوال اٹھاتی ہیں۔

مغربی ایشیا سے گزرنے والے فضائی اور بحری راستوں میں رکاوٹ کی وجہ سے تجارت اور سفر متاثر ہوئے ہیں۔ ایئر لائنز اور شپنگ کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ انشورنس کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔ جنگی خطرے کے باعث ’وار رسک کوریج‘ مزید مہنگی ہو گئی ہے۔


یہ بحران صرف قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ مجموعی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے، جس میں پیداوار، سرمایہ کاری، روزگار، برآمدات اور درآمدات شامل ہیں۔ جیسے جیسے مہنگائی بڑھے گی، کمزور طبقے کی طلب کم ہو جائے گی، جس سے پیداوار گھٹے گی اور معاشی ترقی سست پڑ جائے گی۔ درآمدی بل میں اضافہ ہوگا، جبکہ خلیجی ممالک کو ہندوستان کی برآمدات — جیسے چائے، چاول، سبزیاں اور انجینئرنگ مصنوعات — متاثر ہوں گی۔ اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ بڑھے گا، زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوں گے اور روپیہ کمزور ہوگا۔

مزید یہ کہ گزشتہ چند مہینوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں کمی دیکھی گئی ہے اور پورٹ فولیو سرمایہ بھی باہر جا رہا ہے، جس سے سرمایہ کی آمد متاثر ہو رہی ہے۔ مغربی ایشیا میں مقیم ایک کروڑ ہندوستانیوں میں سے کئی اپنی ملازمتیں کھو رہے ہیں یا واپس آ رہے ہیں، جس سے ترسیلات زر میں کمی آئے گی اور ملک میں بے روزگاری مزید بڑھے گی۔

روپے کی قدر میں کمی سٹہ بازی کو جنم دے گی، جس سے ڈالر کا اخراج تیز ہوگا اور مالیاتی دباؤ بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں شرح سود میں اضافہ ہوگا، جو سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید متاثر کرے گا۔ دنیا پہلے ہی تجارتی تنازعات اور جنگوں کے باعث دباؤ میں ہے۔ سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے، جس سے حقیقی معیشت میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔ دنیا ’اسٹیگفلیشن‘ کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں مہنگائی بڑھتی ہے مگر ترقی رک جاتی ہے۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو عالمی معیشت کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے۔

ہندوستان کو اپنے اسٹریٹیجک تیل ذخائر کا استعمال کرنا ہوگا۔ روس، امریکہ اور وینزویلا سے درآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں، اگرچہ قیمتیں زیادہ ہوں گی۔


ٹیرِف اور سپلائی میں رکاوٹوں کے حوالے سے دنیا بھر کے حالات اور مختلف ممالک کی جانب سے سپلائی چین کو مختصر کرنے اور اپنی سرمایہ کاری کو ملک کے اندر ہی محدود رکھنے کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے، برآمدات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہندوستان کو اپنے داخلی بازار پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔ وسیع غیر منظم شعبہ ایک اضافی منڈی فراہم کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے زیادہ روزگار اور آمدنی میسر ہو۔ مثال کے طور پر، اگر ہم بیرونِ ملک کم کپڑے یا خوراکی اشیاء فروخت کریں، تو بچی ہوئی مصنوعات کو ہندوستان کا غیر منظم شعبہ کھپا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پاس خریدنے کی صلاحیت ہو۔

ایسی پالیسیاں جو نجی گاڑیوں کے استعمال کو کم کرنے اور عوامی ٹرانسپورٹ کے فروغ میں مدد دیں، ایندھن کی بچت کا سبب بنیں گی۔ ہندوستان میں ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی برآمد پر پابندی لگانا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایسی دیگر پالیسیوں کی بھی ضرورت ہے جو معیشت کی توانائی پر انحصار کو کم کریں اور اسے توانائی کے بحران کے اثرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنائیں—یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

(ارون کمار ایک معروف ماہرِ معاشیات اور مصنف ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔