اسرائیل نے ٹرمپ کا غزہ منصوبہ کیا مسترد، نیتن یاہو نے کہا ’اسرائیلی فوج نہیں ہٹے گی پیچھے‘
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا کہ ’’ہم روڈ میپ کے لیے پرعزم ہیں۔ گروپ کو امید ہے کہ ثالثی کا عمل اور امریکہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں گے۔‘‘

اسرائیل نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے غزہ معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سے آبنائے ہرمز سے متعلق جاری کشیدگی ختم ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ دراصل ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظامات سے متعلق ممکنہ معاہدے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔ تہران نے پہلے ہی اشارے دے دیے ہیں کہ دشمن ممالک سے جڑے جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس درمیان یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے ملک کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر حکومت کے زیر قبضہ ایک بندرگاہ پر حملہ کیا کر دیا ہے۔ اس سے جہاز کے راستوں کے لیے خطرہ اور خانہ جنگی کی طرف واپسی کا امکان بڑھ گیا ہے۔ حوثی باغیوں نے یہ بھی جانکاری دی ہے کہ پڑوسی ملک سعودی عرب میں ایک ’تیل دستیابی مرکز‘ پر حملہ کیا گیا ہے۔
بہرحال، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گزشتہ مہینے ٹرمپ کے ذریعہ غزہ سے متعلق پیش کردہ معاہدے کو خارج کر دیا اور واضح لفظوں میں کہا کہ اسرائیلی فوج تب تک واپسی نہیں کرے گی، جب تک حماس ہتھیار نہیں چھوڑ دیتا ہے۔ نیتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو خارج کرتا ہے، لیکن واشنگٹن کے ساتھ غزہ کے لیے منصوبوں پر گفتگو جاری رکھے گا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ حماس کے ہتھیار چھوڑنے پر اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ جائے گی۔ اس معاملہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم کا کہنا ہے کہ ’’ہم روڈ میپ کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ گروپ کو امید ہے کہ ثالثی کا عمل اور امریکہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں گے، جو 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے پہلے اقتدار حاصل کرنے کے لیے جد وجہد کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر ہوئے حملے سے غزہ جنگ شروع ہوئی تھی۔ یمن حکومت کی معاون ’قومی مزاحمتی افواج‘ نے بتایا کہ موکھا بندرگاہ پر حوثی حملے میں کم از کم 7 افراد (4 فوجی اور 3 عام شہری) مارے گئے اور 15 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت اطلاعات کے اسسٹنٹ انڈر سکریٹری فائید النعمان نے کہا کہ باغیوں نے میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جس کی وجہ سے بندرگاہ کی عمارتوں سمیت کافی نقصان ہوا ہے۔ بعد میں فوج نے بتایا کہ میزائلیں کئی علاقوں میں گری ہیں، جس میں ایک ٹیلی ویژن چینل کے قریب کی جگہ بھی شامل ہے۔ حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری لی ہے اور کہا کہ انہوں نے فوج اور گوداموں کو نشانہ بنایا۔
حوثی فوج کے ترجمان یحیٰ ساری نے کہا کہ انہوں نے سعودی ڈرون کے ذریعہ حجہ اور صعدہ صوبوں پر یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں سعودی شہر جازان میں آرامکو ریفائنری کو بھی ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ سعودی وزارت توانائی نے بتایا کہ آرامکو ریفائنری کی ایک فیسلٹی میں آگ لگ گئی، لیکن جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ وزارت نے آگ لگنے کی وجہ نہیں بتائی ہے۔ ان حملوں نے 2022 کے معاہدے کے بعد یمن میں خانہ جنگی کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے دونوں جانب واقع ہیں۔ یہ دونوں ممالک ایک عارضی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر کام کر رہے ہیں۔ اس معاہدے سے آبی گزرگاہ دوبارہ کھل جائے گی، جس کی وجہ سے جہاز ایران کے قریب سے داخل ہوں گے اور عمان کے قریب سے باہر نکلیں گے۔ بات چیت سے واقف 2 افراد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
