مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان لبنان پر اسرائیل کا بڑا حملہ، ٹرمپ کی اپیل بے اثر

لبنان کے خلاف اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کے بعد عالمی حلقوں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ کیا نیتن یاہو ایک بار پھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امن سفارتکاری کے ایجنڈے کو بگاڑنے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>لبنان میں تباہی کا منظر، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک طرف جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے ایک بڑے معاہدے کے بالکل آخری مرحلہ میں ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ایک جارح قدم نے اس پورے امن عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایران کے ساتھ بات چیت اور آپسی حملوں کو روکنے کی کوششوں کے درمیان اسرائیلی فوج نے اچانک لبنان کے جنوبی حصوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

لبنان کے خلاف اسرائیل کے تازہ ترین حملوں کے بعد عالمی حلقوں میں یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ کیا نیتن یاہو ایک بار پھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امن سفارتکاری کے ایجنڈے اور ’گرینڈ ڈیزائن‘ کو بگاڑنے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ یہ پورا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل دونوں ہی فریق ایک دوسرے پر براہ راست حملے روک کر جنگ کے میدان میں ایک نیا فارمولہ، ایک نیا سیکورٹی شیلڈ اور جنگ کے نئے اصول قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن پیر کی دیر رات اور منگل کی صبح اسرائیل کے ذریعہ لبنان کے صور شہر سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنائے جانے سے سفارتی بات چیت کے پس پردہ جاری کشیدگی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔


واضح رہے کہ فی الحال مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل فریق امن کے دعووں کے درمیان ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی حد اور عزم کا امتحان لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے جنگ بندی کی امیدیں فی الحال دھندلی نظر آ رہی ہیں۔ اس پورے تنازعہ کی جڑیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان سے منسلک ہیں، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے تاریخی معاہدے کے بے حد قریب پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ثالثی کے باعث ہی گزشتہ کچھ دنوں میں ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے کی سرزمین پر براہ راست میزائل حملے بند کر دیے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ اس جنگ کو علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے پردے کے پیچھے سے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا تھا۔ لیکن اس معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے سے عین قبل ایران نے ایک بہت ہی سخت اور دو ٹوک وارننگ جاری کر دی۔ تہران نے آفیشیل بیان میں واضح طور پر کہا کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کسی بھی طرح کی جارحیت یا دشمنانہ کارروائی جاری رہتی ہے، خاص طور سے جنوبی لبنان میں، تو ایران خاموش نہیں بیٹھے گا اور اس کے بعد اسرائیل کو کہیں زیادہ سنگین اور تباہ کن فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اس کے لیے لبنان اور حزب اللہ کی حفاظت اس کی اپنی خودمختاری جتنی ہی اہم ہے۔ وہ اسرائیل کو لبنان میں کھلی چھوٹ دینے کے حق میں ہرگز نہیں ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔