لندن واقع ایرانی سفارت خانہ سے ایران کا اسلامی پرچم ہٹا کر ’شیر اور سورج‘ والا قدیم پرچم لہرایا گیا!
مظاہرین نے کینسنگٹن علاقہ میں سفارت خانہ کی عمارت کے سامنے چڑھ کر موجودہ حکومت کا جھنڈا ہٹا دیا اور 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ایران کی بادشاہت سے متعلق تاریخی نشان والے جھنڈے کو لگا دیا۔

ایران میں اس وقت حالات گزرتے وقت کے ساتھ بگڑتے جا رہے ہیں۔ ملک میں گزشتہ کئی دنوں سے حکومت مخالف مظاہرے بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ ایرانی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی جا رہی ہے۔ سڑکوں پر آتشزدگی کی جا رہی ہے۔ اس درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایران کا جھنڈا بدلا ہوا نظر آ رہا ہے۔ ایکس نے ایران کے سرکاری جھنڈے والے ایموجی کو بدل کر تاریخی شیر اور سورج والا ایموجی کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ لندن میں بھی سفارت خانے پر لگے ایران کے جھنڈے کو ہٹایا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ اسلامی انقلاب کے پہلے کا جھنڈا لگا دیا گیا ہے۔ مظاہرین نے کینسنگٹن علاقہ میں سفارت خانہ کی عمارت کے سامنے چڑھ کر موجودہ حکومت کا جھنڈا ہٹا دیا اور 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ایران کی بادشاہت سے متعلق تاریخی نشان والے جھنڈے کو لگا دیا۔ آئیے ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں ان دونوں جھنڈوں کے درمیان کیا فرق ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے شیر اور سورج والے جھنڈے کی تاریخ 3 ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ اس نشان میں شیر ایران کی طاقت، ہمت اور شناخت کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ سورج کا تعلق قدیم ایرانی عقائد سے ہے۔ یہ جھنڈا ایران کے کئی خاندانوں تک چلتا رہا۔ اشکانی اور ساسانی دور سے لے کر صفوی، افشاری اور قاجار عہد تک یہ ایرانی جھنڈوں پر موجود رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جنگوں کے دور میں شیر کے ہاتھ میں تلوار بھی شامل کر دی گئی، جو طاقت اور بہادری کی علامت بن گئی۔ 1906 کے آئینی انقلاب کے بعد اسے باقاعدہ طور پر ایران کے قومی پرچم میں شامل کر لیا گیا۔ حالانکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اس جھنڈے کو ہٹا دیا گیا اور موجودہ اسلامی جمہوریہ کا پرچم اپنایا گیا۔
واضح رہے کہ ایران کا موجودہ اسلامی پرچم 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد وجود میں آیا۔ اس انقلاب میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت ختم ہوئی اور آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے ساتھ ہی پرانے شیر اور سورج والے جھنڈے کو ہٹا دیا گیا۔ 1980 میں نئے جھنڈے کو سرکاری طور پر اپنایا گیا۔ جھنڈے میں 3 رنگ رکھے گئے، اوپر ہرا، درمیان میں سفید اور نیچے سرخ۔ یہ رنگ پہلے بھی ایرانی جھنڈوں میں موجود تھے، لیکن ان کے معنی کو اسلامی نظریے سے جوڑ دیا گیا۔ ہرا رنگ اسلام اور شہادت کی علامت مانا گیا، سفید رنگ امن اور ایمانداری کا اور سرخ رنگ قربانی اور انقلاب میں بہائے گئے خون کی علامت بنا۔
ہری اور سرخ پٹیوں کے کناروں پر ’اللہ اکبر‘ کو کوفی خط میں 22 مرتبہ لکھا گیا ہے۔ اس طرح موجودہ اسلامی جھنڈا محض ایک قومی علامت نہیں، بلکہ براہ راست ایران کے اسلامی انقلاب، مذہبی حکمرانی اور نظریاتی شناخت کو سامنے رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی مخالفت میں آج کی تحریکوں میں لوگ پرانے شیر اور سورج والے جھنڈے کو پھر سے اپنا رہے ہیں۔ موجودہ وقت میں یہ مانا جا رہا ہے کہ لوگ پرانے جھنڈے کو شاہی نظام کی واپسی کے مطالبے کے طور پر بھی اپنا رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایران میں گزشتہ چند دنوں سے جاری احتجاجی مظاہرے نے اب شدت اختیار کر لی ہے۔ ملک میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر اتر آئے ہیں، نعرے بازی کر رہے ہیں اور آتشزدگی کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایرانی شہری بین الاقوامی آن لائن خدمات سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ اسی دوران نیوز ایجنسی اے پی نے اتوار (11 جنوری) کو رپورٹ کیا کہ اب تک جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 2600 سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔