امریکہ معافی مانگے تو ایران مذاکرات کے لئے تیار ہے: حسن روحانی

ایرانی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے باہر نکل جانے کے مطالبات کے باوجود ایران اس ایجنسی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکہ 2015 کے جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹنے پر معافی مانگتاہے اور اس کی تلافی کرتا ہے تو وہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کا آغاز کرنے کے لئے تیار ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ "ہمیں امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہے، لیکن یہ صرف اس شرط پر ہوسکتی ہےکہ وہ جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور 2015 کے جوہری معاہدے سے باہر نکلنے پر ایران سے معافی مانگے اور اس کا معاوضہ دے"۔

انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی امریکی پہلی کو صرف ' منہ بھرائی اور صرح جھوٹ" قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔

مسٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایرانی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے باہر نکل جانے کے مطالبات کے باوجود ایران اس ایجنسی کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے ہمیشہ آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کیا ہے اور آج بھی ہم اس اصول پر قائم ہیں"۔