ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز کو پھر کیا بند، ایران-امریکہ امن معاہدہ خطرے میں

ایران نے امریکہ پر امن معاہدہ کے شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی وجہ جنوبی لبنان سے فوج نہ ہٹانے اور اسرائیل کے ذریعہ مستقل جنگ بندی کی خلاف ورزی کو قرار دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز، تصویر اے آئی</p></div>
i

ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط بھلے ہی ہو گیا، لیکن اس کے بعد بھی حالات پوری طرح پُرامن نہیں ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران دونوں ہی ممالک کے سرکردہ لیڈران اپنے بیانات کے ذریعہ ایک دوسرے کو ’زیر‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جوائنٹ ملٹری کمانڈ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز از سر نو بند کرنے کے پیچھے کی وجہ جنگ ختم کرنے والے معاہدہ (ایم او یو) کی امریکہ کے ذریعہ خلاف ورزی، جنوبی لبنان سے فوج نہ ہٹانے اور اسرائیل کے ذریعہ مستقل جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔ ایران نے اسے پہلا قدم بتایا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر خلاف ورزی جاری رہی تو مزید سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔


واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے اس ہفتہ ایک مفاہمت کی عرضداشت (ایم او یو) پر دستخط کیا تھا، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ہفتہ کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 7 لوگوں کی موت ہو گئی تھی، جن میں 2 بچے بھی شامل تھے۔ ایسے حالات میں عالمی امور کے کئی ماہرین امن معاہدہ پر خطرہ منڈلانے کا اندیشہ ظاہر کر رہے تھے۔ اب ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز کو پھر سے بند کیا جانا پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔