دیگر ممالک

ایران میں خاتون وکیل کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی توہین کی پاداش میں 2 سال قید

ایران میں انسانی حقوق کارکن اور خاتون قانون دان نسرین ستودہ کو قید کی سزا سنائے جانے پرعالمی سطح پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

سوشل میڈیا 

قومی آوازبیورو

گذشتہ پیرکو ایران کی ایک انقلاب عدالت نے نسرین ستودہ کو مظاہرے منعقد کرنے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شان میں گُستاخی کے جرم میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔فرانسیسی اخبار'لی مونڈ' نے نسرین ستودہ کو دی جانے والی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نسرین کو اس کی انسانی حقوق کے لیے سرگرمیوں کی پاداش میں کڑی سزا دی گئی ہے۔ نسرین کو دی جانے والی سزا نے ایرانی حکومت کا سفاک اور مکروہ چہرہ پوری دُنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ہے۔

ایرانی جج محمد مغیشہ نے کہا کہ نسرین کو نو ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا اوراسے دارالحکومت تہران کی 'ایفین' جیل میں قید رکھا گیا ہے۔ اس کے خلاف کئی الزامات ہیں۔ ان میں ایرانی نظام کے خلاف سازش کرنا، عوامی مظاہرے منعقد کرکے لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسانا اور رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کی توہین کرنا ہے۔

اسے حکومت مخالف مظاہروں اور ایرانی حکومت کے خلاف سازش کے الزامات میں پانچ سال اور سپریم لیڈر کی توہین پردو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ سزا سنائےجانے کے وقت نسرین کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اسے گذشتہ برس حراست میں لیا تھا۔ اس کے ساتھ 7 ہزار دوسرے ایرانیوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

خیال رہے کہ نسیرن ستودہ کو ایران میں پرامن مظاہرین کا حامی اور ان کے آئینی حقوق کی وکیل قراردیاجاتا ہے۔ اس نے ہمیشہ ایران کے خواتین کے خلاف سخت قوانین کی مخالفت کی اور ظالمانہ قوانین سے متاثرہ خواتین کی مدد کی۔ 55 سالہ نسرین کو پبلک مقامات پر حجاب نہ پہننے والی خواتین کی حمایت کرتے دیکھا گیا۔

ایرانی عدالت کی طرف سے قید کی سزا سنائے جانے کے باوجود نسرین ستودہ اپنے موقف پرقائم ہے اوربین الاقوامی سطح پراس کی حمایت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں‌نے نسرین کو سنائی جانے والی سزا کو غیرانسانی اور ظالمانہ قرار دے کر اسے ختم کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ